ابوحبہ رضی اللہ عنہ،بن غزیر بن عمرو بن عطیہ بن خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن تجار انصاری،خزرمی،نجاری،بقول طبری ان کا نام زید بن غزیہ تھا،اور نسب جواوپر مذکورہے وہ غزوۂ احد میں شریک تھےاور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے،موسیٰ بن عقبہ نے ان کا ذکر شہدائے یمامہ میں کیا،وہ بنومالک بن نجار سے،مازن بن نجار کے بھائی تھے،ابومعشر نے لکھا ہے،کہ جنگ یمامہ میں بنو مازن بن نجار سے جو قتل ہوئے،ان میں ابوحبہ بن غزیہ بھی شامل تھے،یہی رائے سیف کی ہے، ابوعمرکاقول ہے کہ یہ ابوحبہ خزرجی تھےاور بد ر میں شام نہیں تھےاور ان سے پہلے جو مذکر ہیں،وہ اوسی ہیں اور بدری،ابوحبہ بن غزیہ کے دوبھائی تھے،حمزہ اور تمیم،اور ان کے بیٹے سعید یوم الحرہ کو قتل ہوئے تھے اور وہ حمزہ بن سعید کے والد تھے،جوبنومالک کے شیخ تھے،ابوعمر کا یہ کہنا کہ ایک روایت میں ان کی کنیت ابو۔۔۔
مزید
ابوحبیب العنبری،حسن سمرقندی نے انہیں صحابہ میں شمارکیا ہے،اورلکھا ہے، کہ ان کے بیٹے ان کے راوی ہیں،لیکن روایت بیان نہیں کی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحبیب بن ازعر رضی اللہ عنہ ابوحبیب بن ازعر بن زید بن عطاف بن صبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی،ضبعی،وہ بنوملیل بن ازعر کے بھائی تھے،غزوۂ احد میں شریک تھے،اور ایک روایت کے مطابق تمام غزوات میں شامل رہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحبیب بن زید بن حباب بن انس بن زید بن عبید،ابی بن کعب کا نسب ان سے عبید میں مل جاتا ہے،بدری ہیں،ابوعمر نے ابن الکلبی سے ان کا ذکر کیا ہے،اور انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے،لیکن ابوعمر انہیں نہیں جانتے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحبیش الغفاری،ابونعیم،ابوزکریا،ابنِ مندہ اور ابوبکر بن ابوعلی نے انہیں باب الحاء (بے نقطہ) میں ذکر کیا ہے، ابوعبداللہ بن مندہ نے باب الخاء(بانقطہ) میں نون اور سین کے ساتھ لکھاہے (خنیس )ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ تا ابن ابی عاصم،انہوں نے ابوبکر سے،انہوں نے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابو ربیعہ سے راویت کی ،انہوں نے ابوحبیش غفاری کو یہ کہتے سُنا،کہ وہ ایک غزوے میں حضور اکرم کے ساتھ تھے،جب وُہ بہ مقام عفان پہنچے،تو حضورِاکرم کے صحابہ بھی وہاں پہنچ گئے ،اورکہنے لگے،یارسول اللہ، ہم بھوک کے ہاتھوں سخت لاچار ہیں،ہمیں سواریوں کو ذبح کرنے کی اجاز ت فرمائیے،پھر حدیث بیان کی،امیر ابونصر نے ان کانام اخنیس لکھاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوہدبہ انصاری،ان سے ان کے بیٹے محمدبن ابوہدبہ نے اپنے بھتیجے زہری کی حدیث جو انہوں نے اپنے چچاسے سنی روایت کی،جعفر المستغفری کے مطابق انہوں نے برذعی سےاورانہوں نے ابوحاتم الرازی سے روایت کی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحدیدہ جہنی،ایک روایت میں ابن حدیدہ آیاہے،صحابی تھے،کہتے ہیں،مجھے میرے چچا نے زوار میں بھیجاتھا،ابن مندہ اور ابونعیم نےان کا مختصراً ذکرکیا ہے،وہ ابنِ حدیدہ کودرست خیال کرتے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
ابوحضفہ رضی اللہ عنہ ایک روایت میں ابوحفصہ ہے اور باب الحاء میں ذکر کر چکے ہیں،انہوں نے مغیرہ جعفی سے روایت کی،کہتے ہیں کہ میں ابوحفصہ کے ساتھ بیٹھاتھا،کہ انہوں نے ابوحصفہ سے روایت کی،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا،کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کسے کہتے ہیں،پھرحدیث بیان کی۔ ابونعیم نے اسی ترجمے میں طبرانی سے،انہوں نے ابونصر صانع سے،انہوں نے محمد بن اسحاق المسیبی سے،انہوں نے یحییٰ بن یزید بن عبدالمالک سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے یزید بن حصیفہ سے،انہوں نے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی،کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ خوش چہرہ سے بھلائی کا سوال کرو،ابوموسیٰ نے اس حدیث کو اس ترجمے میں بیان کیا ہے،جوآگے مذکو ر ہے،لیکن ابو نعیم نے دونوں حدیثوں کو اس ترجمے میں ذکر کر کے دونوں کو ایک بنادیا ہے،اس کے خلاف۔۔۔
مزید
ابوحدرداسلمی ایک روایت میں ان کا نام سلامہ بن عمربن ابی سلامہ بن سعد بن مساب بن حارث بن عبس بن ہوازن بن اسلم ہے،خلیفہ اور ابراہیم بن منذر کا بھی یہی قول ہے،ابن ماکولانے بھی ان کا یہی نسب بیان کیا ہےصرف مساب کی جگہ سنان لکھاہےامام احمدبن حنبل لکھتے ہیں،کہ انہیں ابن اسحاق نے ان کا نام عبدبتایا،بقول علی بن مدینی،ان کا نام عتبہ تھا،انہیں صحبت نصیب ہوئی،وہ ابوالدرداء کے والد تھے،اور ابوالدرداء کی زوجہ حجازی تھی۔ ابوحدردسے ان کے بیٹے عبداللہ،محمد بن ابراہیم التیمی اور ابویحییٰ اسلمی نے روایت کی۔ ابن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے وکیع سے،انہوں نے سفیان ثوری سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید سے،انہوں نے محمد بن ابراہیم التیمی سے،انہوں نے ابوحدردسے روایت کی،کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی ۔۔۔
مزید
ابوحدرد،بقول،ابوعمر،بعض لوگوں کے مطابق وہ آخری آدمی ہیں،جنہیں حضور کی صحبت نصیب ہوئی،ان کا نام حکم بن حزن یا براء تھا،واللہ اعلم،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید