حضرت عثمان خلیفہ آپ صاحب حال و دل بزرگ تھے آپ کی کرامات اور تصرفات مشہور و معروف ہیں آپ کا مزار مکلی پر ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت عثمان شیخ شیخ عثمان کو شیخ محمد یعقب گجراتی قدس سرہ کی نظر فیض اثر نے مرتبہ ولایت پر فائز کردیا تھا، ان کی کرامات بے شمار ہیں ، آپ کو وصیت کے مطابق محمد یعقوب کےمرقد کی پائنتی دفن کیا گیا ہے، مکلی میں آپ کا مدفن ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۷۴) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت عثمان شیخ قاضی قاضن سندھی کے مصاحبوں میں سے تھے ، پاتر کے مقام پر پیدا ہوئے، پھر وصیت پور تشریف لائے ، اور خلق خدا کی رہبری اور ہدایت میں مصروف ہوگئے، عوام اور خواص آپ سے مستفید ہوئے، اس علاقہ کے لوگوں نے آپ کی پذیرائی بہت اچھی طرح کی، وحدۃ الوجود کے قائل تھے، آپ کا مزار اقدس صیت پور ہی میں ہے۔ (صیت پور بکھر اور ملتان کی سرحد پر ایک مقام ہے۔ مولف) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت عربی دیانہ مخدوم موضع ہالہ کندی کے یہ نامور بزرگ قرآن کریم سے بے حد شغف رکھتے تھے، اس خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے کہ وحوش و طیور دم بخود رہ جاتے تھے، ۹۸۰ھ میں وفات پائی، ہالہ کندی میں مدفون ہوئے۔ (مزید احوال کے یلے ملاحظہ ہو حدیقۃ الاولیاء ص از ۱۲۷ تا ۱۳۰) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت علاؤ الدین علاؤ الدین بیگھو صحرانورد اولیاء میں سے ایک تھے،مستجاب الدعوات تھے،جو زبان سے نکل جاتا ہو کے رہتا تھا ، ۹۰۰ھ میں وفات ہوئی برھمن آباد میں دشت کے قریب مدفون ہیں۔ (بیگہیو سندھ کی ایک قوم ہے۔ مولف۔‘‘حدیقۃ الاولیاء ص ۲۱۱’’) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت عمر بودلہ درویش عمر بودلہ ایک مجذوب تھے، شروع میں ویرانہ نور دی مشغلہ تھا، بعد میں اگھم کوٹ کو مسکن بنالیا تھا مادر زاد ننگے رہتے تھے، اکثر حاجت مند بامراد لوٹتے تھے، ایک مرتبہ ایک درویش دھیو نے آپ سے ملاقات کا ارادہ کیا ادھر انہوں نے ارادہ کیا اور ادھر مجذوب کو خبر ہوگئی، اپنے ایک معتقد سے فرمایا کہ فلاں ولی ہم سے ملنے آرہے ہیں چادر دو تاکہ پہن لوں چناں چہ چادر پہن کر بیٹھ گئے جب وہ بزرگ آگئے تو فور اً ان کے سامنے چادر اتار کر پھینک دی اور حسب معمول پرہنہ ہوکر بیٹھ گئے، آپ نے آنے سے پہلے تو چادر پہن لی اور جب آپ آگئے تو چادر اتار دی اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے تو ان کو چادر ہی میں آپ ملبوس دیکھا، برہنہ ہر گز نہیں دیکھا،آپ کا مزار گھم کوٹ میں واقع ہے۔ (حدیقۃ ۔۔۔
مزید
حضرت عیسیٰ لنگوٹی ف۹۳۱ھ/ ۱۵۲۴ء شیخ عیسیٰ دراصل برہان پور (ہند) کے رہنے والے تھے ، ترک وطن کر کے سندھ کےعلاقہ ساموئی میں رہائش پذیر ہوئے یہاں ایک عالی شان مدرسہ قائم کیا جس سے لاتعداد علماء اور مبلغین فارغ التحصیل ہوکر نکلے اس درس گاہ گے نامور علماء میں علامہ نعمت اللہ عباسی ہوئےہیں، آپ قلندر انہ واضع مطابق لنگوٹی باندھے رہتے تھے، تمام عمر مجرد رہے، آپ کے معاصرین میں مشہور زمانہ ولی شیخ حماد جمالی تھے، دونوں ایک دوسرے کی حد درجہ تو قیر و تعظیم کرتے تھے، آپ کبھی کبھی شعر بھی تھے، آپ نے ۹۳۱ھ میں وفات پائی آپ کا مزار مکلی میں حضرت پیر مراد اورحضرت سید علی کے قبرستان کے عقب میں ہے۔ (دائرہ معارف اسلامیہ ص ۴۷۴م مادہ ک و تحفۃ الکرام ج ۳) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت علی ثانی شیرازی سید علیہ الرحمۃ ف۔ ۹۸۱ھ سید علی شیرازی بن سید جلال سید جلال بن میاں سید علی کلاں، خاندانی بزرگ تھے، آپ کے آباؤ اجداد سب کے ساتھ بزرگ تھے، ابتداء میں آپ نے ایک درویش راجر کی صحبت اختیار کی پھر مشہور بزرگ حضرت مخدوم نوح ہالائی سے بعیت کی۔ (حدیقۃ الاولیاء ص ۶۵) آپ کا دستر خوان وسیع تھا، جو دو سخا کا یہ عالم تھا کہ کوئی سائل محروم نہیں جاتا تھا، آپ شب زندہ دار عابد اور اسلام کے سر گرم مبلغ تھے، آپ سندھی فارسی، اور عربی کے جید عالم تھے، آپ کےسندھی دوھوں کو ادب کی تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے، آپ کی تصانیف میں آداب المریدین کو قبول عام حاصل ہوا۔ (دائرہ معارف اسلامیہ ص ۴۷۴ مادہ ک) جب ہمایوں عمر کوٹ پہنچا تو ٹھٹھہ کے لوگوں۔۔۔
مزید
حضرت عنایت اللہ علیہ الرحمۃ ف ۱۱۳۰ھ سر زمین سندھ کےمشہور صوفی عنایت اللہ کا شجرہ نسب اس طرح ہے، عنایت اللہ بن مخدوم فضل اللہ بن ملا یوسف، بن ملا شہاب بن ملا آجب بن مخدوم صدھو لا نگاہ قادری ، مخدوم لانگاہ کے بزرگوں کا اصل وطن بغداد تھا، یہ لوگ اچ میں آکر مقیم ہوگئے تھے، صوفی عنایت شاہ کی ولادت ۱۰۶۵ھ/۱۶۵۶ء میراں پور میں ہوئی جب جوان ہوئے تو تلاش مرشد میں ملتان پہنچے یہاں آپ کی ملاقات شمس شاہ سے ہوئی یہ صاحب دل بزرگ تھے، انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ دکن میں شاہ عبدالملک کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے فیض حاصل کریں، چناں چہ آپ وہاں پہنچے اور کسب فیض کیا، پھر آپ دہلی تشریف لائے اور شاہ غلام محمد سے علوم متداولہ کو حاصل کیا، پھر آپ دہلی تشریف اور شاہ غلام محمد سے علوم متداولہ کو حاصل کیا ، شاہ غلام محمد ۔۔۔
مزید
حضرت عبداللہ شاہ سید غازی علیہ الرحمۃ و ۹۸ ھ ف ۱۵۱ھ آپ کا اسم گرامی سیّد عبداللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے، آپ کے والد کا نام سیّد محمد نفس زکیہ اور دادا کا نام سیّد عبداللہ المحض ہے، پانچویں پشت میں حضرت سیّدنا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ سے جاکر ملتے ہیں۔ پورا سلسلۂ نسب اس طرح ہے: سیّد ابو محمد عبداللہ الاشتر بن سیّد محمد ذوالنفس الزکیہ بن سیّد عبداللہ المحض بن سیّد حسن مثنّٰی بن سیّدنا حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ بن حضرت سیّدنا امیر المومنین علی بن ابی طالبکَرَّمَ اللہُ وَجَہْہٗ الْکَرِیْمحضرت سیّدنا حسن مثنی کی شادی حضرت سیّدہ فاطمہ صغریٰ بنتِ سیّدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) سے ہوئی۔ اس لحاظ سے (آپ سیّد عبداللہ غازی) حسنی و حسینی سیّد ہیں۔ آپ کی ولادت با سعادت ۹۸ھ میں مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم حضرت سیّد محمد نفس زکیہ کے۔۔۔
مزید