پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمرو ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

۔قاری۔کنیت ان کی ابوعیاض خلیفہ نے کہاہے کہ یہ بنی غالب بن اثیع بن ہون بن خزیمہ بن مدرکہ میں جوقبیلہ بنی قارہ کی ایک شاخ ہے۔اورابوعبیدہ نے کہاہے کہ اثیع بن ہوں ہی کا نام قارہ ہے۔یہ عبیداللہ بن عیاض کے داداہیں ان کاشماراہل حجاز میں ہے۔عمروبن عیاض قاری نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداعمروسے روایت کی ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اورسعد کو مریض ہونے کے باعث سےحنین سے روانگی کے وقت آپ نے پیچھے چھوڑدیاپھرجب آپ جعرانہ سے عمرہ کرکے لوٹے توسعد نےدیکھا کہ وہ مریض ہیں انھوں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میرے پاس کچھ مال ہے اورتہائی وصیت کی حدیث ذکرکی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

ضبابی۔بنی حارث بن کعب سے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں قیس بن حصین بن قتان ذوالفصہ اوریزیدبن عبدالمدان اوریزیدبن محجل اورعبداللہ بن قریط اورشداد بن عبداللہ غسانی تھے حاضرہوئےتھےاس کوابن اسحاق نے ذکرکیا ہے ان  کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

   شامی۔جعفرنے کہاہے کہ بخاری نے تاریخ کبیر میں ایساہی لکھاہےابراہیم بن ابی عیلہ نے روایت کی ہے کہ انھوں نے اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم میں سے عبداللہ بن عمرواور عمرو بن عبداللہ بن ام حرام اورواثلہ بن اسقع کو دیکھاکہ یہ لوگ بارانی پہنتےتھےان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ ان کی کنیت ابوابی تھی اوران کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ عبداللہ بن ابی کہتےہیں اوربعض لوگ ابن ام حرام کہتےہیں ام حرام عبادہ بن صامت کی بی بی تھیں اوربعض لوگوں نے کچھ اوربیان کیاہے۔ان کاتذکرہ اوپرہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ۔انصاری ان سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا۔میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ آپ نے ایک بکری کے شانے کاگوشت کھایابعداس کے آپ کھڑے ہوگئے اورکلی کرکے نماز پڑھی وضونہیں کیا۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے اورکہاہے کہ میں  ان کواس سے زیادہ نہیں جانتامگراس میں کلام کیاہے بخاری نے ان کی حدیث کی سند کو ضعیف کہاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

   اصم۔تابعی ہیں انھوں نے جاہلیت کا زمانہ پایاتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ابوالاسد رضی اللہ عنہ

   کنیت ان کی ابوسلمہ۔مخزومی تھی سعید نے ان کا نام یہی بتایاہے اوربعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کانام عبدمناف ہے اوربقول بعض عبداللہ۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ لکھاہم نے ان کا حال عبداللہ کے نام میں کیاہے اورعبدمناف غالباً ان کا جاہلیت کا نام ہوگا۔ہم ان کو کنیت کے باب میں انشاءاللہ کریں گے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عامر رضی اللہ عنہ

   بن مالک بن خنساء بن مبذول بن عمروبن غنم بن مازن بن نجارانصاری خزرجی مازنی کنیت ان کی ابوداؤد تھی۔محمدبن یحییٰ ذبلی نے ان کا نسب بیان کیاہے اورکہاہے کہ بدرمیں شریک تھے۔ ابن اسحاق نے کہاہے کہ نام ان کاعمیرتھاان سے مروی ہے کہ انھوں نے کہاغزوۂ بدرمیں ایک مشرک کے پیچھے اس کے قتل کرنے کے لیےچلا یکایک قبل اس کے کہ میری تلوار اس تک پہنچے اس کاسر گرگیاتومیں نے سمجھ لیاکہ اس کو میرے سوا کسی اورنے قتل کیاہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن نعمان رضی اللہ عنہ

   شیبانی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا۔عوام بن حوشب نے لہب بن ابی الخندق سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےعوف بن نعمان نے زمانہ جاہلیت میں کہاتھاکہ مجھے پیاسا مر جاناپسند ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وعدہ خلافی کروں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن سنجوہ۔ رضی اللہ عنہ

  ان کا تذکرہ بھی لکھاگیاہے۔فتح مصرمیں شریک تھے مگران کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ یہ  ابن عبدالاعلی کاقول ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن مالک رضی اللہ عنہ

   بن عبدکلال۔اعرابی جشمی۔کنیت ان کی ابوالاحوص ہے۔عسکری نے ان کاتذکرہ لکھاہے جیساکہ ابن علی نے اپنے والد کے چچاسے انھوں نے عسکری سے نقل کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید