منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عوف ابن مالک رضی اللہ عنہ

   بن ابی عوف اشجعی۔کنیت ان کی ابوعبدالرحمن تھی اوربعض لوگ کہتےہیں ابو حماد اور بقول بعض ابوعمر۔سب سے پہلاغزوہ جس میں یہ شریک ہوئے خیبرتھا۔فتح مکہ کےدن قبیلہ اشجع کا جھنڈاانھیں کے ہاتھ میں تھاانھوں نے شام کی سکونت اختیارکرلی تھی ان سے منجملہ صحابہ کے حضرت ابوایوب انصاری اورحضرت ابوہریرہ اورمقدام بن معدیکرب نے اورمنجملہ تابعین کے ابو مسلم اورابوادریس خولانی اورجبیربن نضیر وغیرہم نے روایت کی ہے ۔مصرمیں بھی گئےتھے۔ہمیں ابواسحاق یعنی ابراہیم بن محمدوغیرہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوعیسیٰ یعنی محمد بن عیسیٰ (ترمذی)سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے جناد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبدہ نے سعید سے انھوں نےقتادہ سے انھوں ابوالملیح سے انھوں نے عوف بن مالک اشجعی سے روایت کرکے خبردی کہ وہ کہتےتھےرسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ(خداکی طرف سے)ایک آنے والامیرے پاس آیااوراس نے مجھے اختیارد۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن قعقاع رضی اللہ عنہ

   بن معبد بن زرارہ بن عبدس بن زیدبن عبداللہ بن دارم بن مالک بن زید مناہ بن تمیم۔ تمیمی دارمی۔ان کا شماربصرہ کے اعراب میں ہے۔اپنے والد کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضرہوئےتھے ۔محمودبن زید بن قیس بن عوف بن قعقاع نے اپنے والد سے انھوں نے ان کےداداعوف سےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گئے تھےاورمیں بہت کم سن تھااپنے والد کے ہمراہ تھاحضرت نے ہرشخص کودودو چادریں دلوائیں اور مجھے ایک چادردلوائی جب ہم وہاں سے لوٹ کرآئے تو ہم میں سےشخص نے ایک ایک چادر اپنی بیچ ڈالی(چنانچہ ایک چادرمیں نے بھی مول لے لی)پھرمیں دوچادریں پہنے ہوئےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیاآپ نے پوچھاکہ یہ دوسری چادر تم کو کہاں سے ملی میں نے عرض کیاکہ فلاں شخص سے میں نے خریدی آپ نے فرمایاتمھیں اس کے مستحق تھے اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی چیزضا۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابوشبیل رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوشبیل تھی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا۔ان سے ان کے بیٹے شہیل نے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن سلمہ بن سلامہرضی اللہ عنہ

   بن وقش۔انصاری۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کی کنیت ابوسلمہ تھی۔ان سے ان کے بیٹے سلمہ نے روایت کی ہے۔ہمیں ابوالفرج بن ابی الرجاء نے کتابتہً اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عاصم سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے وحیم نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے محمد بن اسمعیل بن ابی فدیک نے ابراہیم بن اسمعیل بن ابی حبیبہ اشہلی سے انھوں نے عوف بن سلمہ بن عوف سے انھون نے اپنے والد سے انھوں نے ان کےداداسے روایت کرکےبیان کیاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایااللہ انصارکوبخش دےاورانصارکے بیٹوں کو بھی بخش دے اورانصار کے پوتوں کوبھی بخش دے اورانصارکےغلاموں کو بھی بخش دے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےاورابوعمر نے کہاہے کہ یہ مدنی ہیں مگران کی حدیث کامدارابن ابی حبیب اشہلی پر ہے اوریہ سند ضعیف ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن سراقہ رضی اللہ عنہ

   ضمری۔جعبل بن سراقہ کے بھائی ہیں ۔دونوں بھائی صحابی ہیں۔عبدالواحد بن عوف بن سراقہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے سنان بن سلمہ کے خود انھیں کے ہاتھ سے تلوار لگ گئی اوروہ مرگئے تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت نہیں دلائی اورمیرے بھائی جعبل بن سراقہ کی آنکھ قریظہ کی لڑائی میں جاتی رہی اس کی دیت بھی آپ نے نہیں دلائی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن ربیع رضی اللہ عنہ

   بن جاریہ بن ساعدہ بن خزیمہ بن نصربن قعین بن حارث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد بن خزیمہ ملقب بہ ذوالخیار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھےاورمقام رقہ میں فروکش تھےان کی اولاد نہیں تھی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے بیان کیاہے کہ بعض متاخرین نے ان کا تذکرہ علی بن احمد حرانی سے انھوں نے محمود ابن محمد اویب سے نقل کیاہے اوراس سے زیادہ ان کا کچھ حال نہیں بیان کیا۔ابوعروبہ نے اورابوعلی بن سعید نے تاریخ جزریین میں ان کاتذکرہ نہیں کیا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن دلہم رضی اللہ عنہ

  ۔ان کا ذکرصحابہ میں کیاگیاہے۔اصمعی نے ابوعوانہ سے انھوں نے عبدالملک بن عمیر سے انھوں نے عوف ابن دلہم سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہاچاربی بیاں جائز ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف خثعمی رضی اللہ عنہ

۔حصین بن عوف کے والد تھے۔ان کا ذکر ردیف حامیں ان کے بیٹے کے نام کے ساتھ ہوچکا ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن حضیر رضی اللہ عنہ

  ہ۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا۔ان سے شعبی نے روایت کی ہے۔یہ شام میں رہتےتھے۔حصین بن عبدالرحمن نے شعبی سے انھوں نے عوف بن حضیرہ سےجو اہل شام میں سے ایک شخص تھےروایت کی ہے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعاقبول ہوتیہے اس وقت سے شروع ہوتی ہےجب امام خطبہ پڑھنے کے لیے نکلتاہے اورنمازکے ختم ہوتے ہی یہ ساعت خرم ہوجاتی ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔اورابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ بطور استدراک کے لکھاہے حالاں کی استدراک بے وجہ ہے ابن مندہ سے ان کا تذکرہ متروک نہیں ہوا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن حارث۔رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوواقد تھی لیثی ہیں۔یہ جعفرکاقول ہے اوربعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کا نام حارث بن عوف تھاان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید