آپ میاں بختاور بن میاں عبدالکریم المعروف شکرعلی رحمانی بھڑی والہ کےاکلوتے بیٹے تھے۔ بیعت وخلافت بھی اپنے والد سے رکھتے تھے۔ ایک شجرہ میں آپ کانام خدابخش بن فتح الدین بن بختاور لکھاہواپایاگیاہے۔واللہ اعلم اولاد آپ کے ایک ہی فرزند میاں غلام رسول تھے۔ میاں خدابخش کا مزار گورستانِ رحمانیہ میں ہوا۔ وفات ۱۲۰۹ھ۔ (سریف التوایخ)۔۔۔
مزید
آپ میاں شکرعلی بن شیخ الٰہ داد بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے فرزند تھے۔والدہ کانام حضرت فتح خاتون تھا۔جو حضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بیٹی تھیں۔ بیعت و خلافت حضرت سید عمربخش نوشاہی برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب مناقباتِ نوشاہیہ میں اور مولوی حکیم کرم الٰہی فاروقی رحمتہ اللہ علیہ نوشاہی بیگووالیہ نے کتاب گلزار فقرامیں ۔آپ کو حضرت پاک صاحب کے خلیفوں کی فہرست میں درج کیاہے۔جس سے ثابت ہوتاہےکہ آپ اپنے ناناصاحب کے بلاواسطہ مریداور خلیفہ تھےاور مقاماتِ جذب وسلوک طے کرکےخلافت پائی تھی۔ کشف باطنی منقول ہے کہ جب آپ کے خالہ زاد بھائی میاں محمد زمان رحیمی رحمتہ ا للہ علیہ نے درگاہِ رحمانیہ میں چلہ کاٹااورفیض یاب ہوئے۔توآپ نے ازراہ کشف آگاہ ہوکرفرمایاکہ نعمت باطنی یہ مجھ سے زیادہ حاصل کرگئے ہیں۔آپ سر پر نوشاہی ٹوپی رکھاکرتے تھے۔ کاشتکاری ۔۔۔
مزید
خلف الرشیدمیاں حیات محمد بن میاں جان محمد بن میاں امیر شاہ بن میاں قادر بخش بن میاں کرم شاہ بن میاں شاہ بن میاں محمد زمان بن میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ۔ یہ صاحبزادہ صاحب مؤلف کتاب ہذافقیرسیّد شریف احمد شرافت علوی،عباسی ،قادری،نوشاہی برخورداری ساہنپالوی کی بیعت تھے۔ عادات و اطوار صاحب علم و حلم ۔اچھے اخلاق والے نیک طبیعت تھے۔اپنے کاروبار اور برادرانہ معاملات میں لائق تھے۔میرے ساتھ بہت محبت وارادت و عقیدت رکھتے تھے۔شریعت کے پابند تھے۔ایک مرتبہ وہابیوں نے بھڑی شریف میں شورش کی ۔توصاحبزادگان رحمانیہ نے درگاہِ عالیہ میں ایک جلسہ کرایا۔جس پرعلمائے حنفیہ کومدعوکیا۔صاحبزادہ صاحب خود ہمارے پاس آکر مجھ کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اولاد صاحبزادہ صاحب کی شادی مسمات عنایت بیگم دخترڈاکٹر سردارعلی بن میاں غلام نبی فقیرنوشاہی اولادِ میاں ہرنی شاہ شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے سا۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد الدین بن میاں پیر بخش المعروف پیر شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ کےپانچویں فرزند اور مریدوخلیفہ تھے۔صاحب ذوق وشوق تھے۔ مشرب توحید آپ بڑے متین و مہذب طریقہ کے پابندتھے۔درویشی اخلاق رکھتے۔ فقرائےخاندان سے نیک سلوک کرتے۔آپ کے سر پر دستارسبزرنگ ہوتی۔داڑھی کو مہندی لگایا کرتے۔آ پ کے چہرہ سے آثار بزرگی عیاں تھے۔فقیر سید شرافت عفی عنہ جب کبھی درگاہ رحمانیہ پر حاضر ہواکرتا۔تو آپ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آیاکرتے۔عزت واحترام کرتے۔اپنے آباو اجداد کے حالات کتاب ہذامیں درج کروائے۔اپنے کاغذات خاندانی و دستاویزات کا ملاحظہ کروایا۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند میاں غلام حسین ہیں۔یہ اپنےوالد کے جانشین ہیں۔ متواضع حلیم الطبع فقیر صورت نیک سیرت ہیں۔آجکل ۱۳۷۹ھ میں بعمر چھپن سال موجود ہیں۔ ان کے دو لڑکے ہیں۔صاحبزادہ غلام مصطفےٰ رحمتہ اللہ علیہ ۔صاحبزادہ محمد یوسف رحمتہ اللہ علیہ ۔ ص۔۔۔
مزید
خلف اکبرمیاں کرم الدین بن میاں وزیر شاہ بن میاں قاد ر بخش بن میاں کرم شاہ بن میاں محمد زمان آپ کی بیعتِ طریقت حاجی شیخ شمس الدین بن شیخ قطب الدین سلیمانی چاوہ والہ سے تھی۔ اخلاق کریمانہ آپ نہایت متواضع و مؤدب اور شریف الطبع تھے۔عرس شریف کے روز نوویں جیٹھ کو آپ بھنڈارہ کی تقسیم پر مقررہوتے۔نہایت احتیاط اور باقاعدگی سے اس کو انجام دیتے۔ اولادِ حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اوراولادِ حضرت سخی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کا بہت احترام کرتے۔اپنے بزرگوں کاپوراپورانمونہ تھے۔ شریعت کی پابندی اپنے معاصرین صاحبزادگانِ رحمانیہ میں سے شریعت کی پابندی کو خاص ملحوظ رکھتے۔عمرکے آخری سالوں میں زیارت حرمین الشریفین زادھمااللّٰہ شرفاً وتعظیماً سے بھی مشرف ہوآئے۔نماز روزہ پر مواظبت رکھتے۔آپ کی گفتگو نہایت شیریں ہوتی تھی۔سِلائی کاکام کرکے روزی حلال حاصل کرتےتھے۔اپنی برادری کے بہت افراد کویہ کا م سِکھ۔۔۔
مزید
آپ میاں پیر بخش المعروف پیرشاہ بن میاں امام شاہ زمانی بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔آپ کی بیعت طریقت بابارُلدوشاہ فقیر ساکن نوشہرہ خوجیاں سے تھی۔وہ مرید آپ کے دادا میاں امام شاہ بن میاں نورشاہ کا تھا۔ مکتوب آپ کو زبان فارسی کابھی کچھ محاورہ تھا۔آپ کا ایک مکتوب یہاں درج کیاجاتاہے۔جو آپ نے سفر میں سے اپنے والد کے نام ارسال کیاتھا۔ "ابویصاحب مہربان دام ظلہٗ ۔بعدازادائے آداب بندگی معروض آنکہ از خدمت رخصت شدہ درشہر جَنڈیالہ بخیریت رسیدہ ام وبخدمت جناب مولاناصاحبنامیاں صاحب محبت اللہ جیو ملازمت میدارم ہر وقت نہایت شفقت و مہربانی بحال بندہ میدارور؟خداتعالےٰآں صاحب جیوراہمیشہ خوش دارد۔ فقط زیادہ آداب ۔عریضہ نیازعلم الدین از مقام جنڈیالہ شیرخاں۔۲۷بھادوں"۔ اس مکتوب سے ظاہر ہوتاہے کہ آپ کو میاں محبت اللہ اویسی جنڈیالوی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی کچھ فیض حاصل تھا۔ اولاد آپ ک۔۔۔
مزید
آپ میاں پیربخش المعروف پیرشاہ بن میاں امام شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبرتھے۔بیعتِ طریقت اپنے دادامیاں امام شاہ بن میاں زمانی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔بعد میں اپنے والد سے بھی فیض پایااورخلافت سے مشرف ہوئے۔ فیصلہ متعلقہ حصص درگاہ آپ کے زمانہ میں اولادمیاں محمد بختاور میں سے میاں پیر بخش بن جان محمدبختاوری وغیرہ نے دعوٰی دائر کردیا۔کہ ہم کودربار حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے چڑھاوامیں سے نصف حصّہ ملناچاہیئے۔جس میں آپ بمعہ دوسرے برادران ہم جدی اولادِ میاں عبدالرحیم کے مدعاعلیہم تھے۔آپ نے پورانی مثلیں پیش کیں۔تواُن کا دعوٰی خارج ہوگیا۔مقدمہ آپ کے حق میں ہوا۔حضرات بختاور یہ کو تیسراحِصّہ ملا۔فیصلہ کی عبارت درج ذیل ہے۔ "دعوائے استقرار حق آمدنی چڑھاوا خانقاہ شاہ رحمٰن مرحوم بحصہ نصفا نصف برائے دوام بموجب حقوق معانی متعلقہ خانقاہ دیہہ مدعیان کا ۔۔۔
مزید
خلف اکبرمیاں پیر بخش بن میاں قادر بخش بن میاں کرم شاہ بن میاں محمد زمان دولارحمتہ اللہ علیہ ۔ آپ کی بیعت و خلافت اپنے نانامیاں بوٹے شاہ بن میاں فتح محمد رحیمی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ معمولات آپ پابند شریعت ۔اہلِ عبادت تھے۔رات کااکثر حِصّہ یادِ الٰہی میں گذارتے فجرکی نماز پڑھ کر سورہتے۔سردیوں میں تالاب کے سرد پانی سے وضو کرتے۔طبیعت میں جلالیت بہت تھی۔کسی کو تاب مقاومت نہ ہوتی۔تمام عمر مجرد رہے۔شادی نہیں کی۔ مسائل فقر منقول ہے کہ حضرت سخی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ایک صاحبزادہ بھڑی آئےاورچند مسائل پیش کئے ۔آپ نے شریعت وطریقت کی تشریح کرکے سمجھادیےاورحقیقت کے متعلق اُن کو میاں محمدزمان رحمتہ اللہ علیہ کی پالکی میں لے گئے اور خفیہ سمجھایا۔ وہ صاحبزادہ بڑے خوش ہوئے اور آپ کے پاؤں پرہاتھ رکھ کر آپ کی بزرگی کا اعتراف کیا۔ تاریخ وفات کی اطلاع دینا آپ کے بھتیجامیاں اکبر ع۔۔۔
مزید
فرزند ِمیاں عمرشاہ بن میاں قادر بخش بن میاں کرم شاہ بن میاں محمد زمان دُولارحمتہ اللہ علیہ ۔آپ کی بیعت طریقت میاں امام شاہ بن نورشاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ نمازیوں کووجد آپ بالکل اَن پڑھ تھے۔ایک بارلاہورتشریف فرماتھے۔صبح کی نماز پڑھنے مسجد میں گئے ۔نمازیوں نے آپ کو مجبور کرکے امامت کے مصلاّ پرکھڑاکردیا۔آپ نے جب تکبیر تحریمہ کہی توسب مقتدیوں کو وجد ہوگیا۔آپ نے قرأت بہت عمدہ پڑھی۔سلام پھیرنے تک سب محویت میں رہے بعد ازاں اس مسجد کے مولوی صاحب بھی آپ کے مریدہوگئے۔آپ کہاکرتے تھے کہ اُس وقت ہم قاری نہ تھے۔بلکہ خود حضرت پاک صاحب امام بنے تھے۔ وفات کے بعد قرآن طلب کرنا ۱۳۵۲ھ کاواقعہ ہے کہ مَیں چلّہ نشینی کے واسطے درگاہِ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ پرحاضر تھا۔میرے سامنے میاں اکبرعلی بن نبی بخش زمانی رحمتہ اللہ علیہ نےآپ کے پوتے میاں امام الدین بن احمدالدین کوبُلاکرپیغام دی۔۔۔
مزید
آپ میاں فتح محمد بن میاں مراد بخش رحیمی رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے بیٹے تھے۔بیعت طریقت شیخ پھلے شاہ بن شیخ فتح الدین سلیمانی رسول نگری سے تھی۔ اولاد آپ کی زوجہ کانام مسمات ستاربی بی تھا۔اس کے بطن سے کوئی اولاد نرینہ نہیں ہوئی۔صرف ایک بیٹی مسمات بھاگن بی بی تھی۔جومیاں علم الدین بن وزیر شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ کی منکوحہ تھی۔ میاں خدایارکی قبرگورستانِ رحمانیہ میں ہے۔ وفات ۱۲۹۹ھ۔ (سریف التوایخ)۔۔۔
مزید