پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

حضرت مکتوب شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی

حضرت مکتوب شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی علیہ الرحمۃ           تائید و توفیق کی امداد والے توحید و تحقیق کے انوار حضرت احدیث میں بظاہر اطہر اور اور باطن میں انور مولانا اعظم شیخ الاسلام اوضاع شرع کے حافظ ارباب طریق کے پیشواء حلال کے خیموں کے مقیم ۔جمال کے پردوں کے پردوں کے قوام درست کرنے والے علاؤالحق و الدین غوث  الاسلام والمسلمین پے در پے رہو اور ترقی کے درجات مدارج تخلقوا  باخلاق اللہ المتعالی میں رہو۔(یعنی خدائے برتر کے اخلاق کے عادی ہو جاؤ)مراسم دعا اور اخلاق کے پیش پہنچانے کے بعد طاہر کے یہ درویش آپ کا نام کبھی بے تعظیم نہیں لیتا،لیکن"کتاب عروہ"کو می ںنے دیکھا تو اس میں دو بحثیں اپنے اعتقاد کے مطابق نہ پائیں۔           اس کے بعد راستہ میں امیر اقبال کہتا تھا کہ شیخ علاؤ الدولہ محی الد۔۔۔

مزید

حضرت شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی

حضرت شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی علیہ الرحمۃ           آپ شیخ نور الدین عبدالصمد تظنزی کے مرید ہیں۔علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔آپ کی تصنیفات بہت ہیں۔جیسے "تفسیر و تاویلات " کتاب اصطلاحات  صوفیہ شرح فصوص الحکم شرح منازل السائرین"وغیرہ۔شیخ رکن الدین علاؤالدولہ قدس  اللہ سرہ کے معاصر تھےاور ان میںوحدت وجود کے قول میں مخالفات مباحثات رہے ہیں اور اس معنی میںایک دوسرے کو خطوط لکھے ہیں۔امیر اقبال سیستانی سلطانیہ کے راہ میں شیخ کمال الدین عبدالرزاق کے ساتھ ہمراہ ہوا تھا۔ان اس بارے میں دریافت کیا توان کو اس بارے می ںپورے غلو کے ساتھ پایا۔پھر آپ نے امیر اقبال سیستانی سے پوچھا کہ تمہارا شیخ محی الدین العربی کی شان میں کی اعتقاد رکھتا ہے؟اس نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کو معرفت میں ایک مرد بڑی شان والا جانتا ہیں،لیکن فرماتے ہیں،اس مرد میں ک۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عزالدین محمود الکاشی

حضرت شیخ عزالدین محمود الکاشی علیہ الرحمۃ آپ نے عوارف کا ترجمہ کیا ہےاور قصیدہ تائیہ فارضیتہ کی شرح لکھی ہے۔ان دونوں کتابوں میں بہت سے بلند حقائق اور عمدہ معارف درج کیے ہیں۔قصیدہ کی مختصر مفید شرح لکھی ہے۔اپنے علم عرفان ذوق وجدان کے مطابق بغیر کسی شرح کے دیکھنے کے اس کے مشکلات کو حل کیا ہے۔چنانچہ اس کے دیباچہ میں لکھا ہے۔ولم ارجع فی املایہ الی مطالعۃ الشرح کیلا یر تسم منہ فی قلبی رسوم واثار تسد باب الفتوح و تشبت باذیال الروح فاتلو الغیر واحد وحذوہ فی السیر ودابی فی التحریر تفریح القلب من مظان الریب وتوحید وجھہ تلقاء مدین الغیب استنزالا للفیض الجدید واستفتامالا بواب المزیدیعنی میں نے اس کی تصنیف میں کسی شرح کے مطالعہ کی طرف رجوع نہیں کیا۔تاکہ میرے دل پر اس شرح سے اوروں کے رسوم و آثار نفس پذیر نہ ہو جائیں کہ جن سے فتوح کا دروازہ بند ہوجائے۔یعنی امور غیبہ بند ہوجائیں اور روح کو مقید کردیں۔پھر۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نور الدین عبدالصمد نطنزی

حضرت شیخ نور الدین عبدالصمد نطنزی علیہ الرحمۃٰ           آپ شیخ نجیب الدین علی برغش کے مرید ہیں۔علوم ظاہری و باطنی کے عالم تھے۔شیخ عز الدین محمود کاشی اور شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی رحمہما اللہ تعالیٰ دونوں ان کے مرید ہیں۔شیخ کمال الدین عبدالرزاق  تاویلات کی تفسیر میں لکھتے ہیں،قدسمعت شیخنا المولی نورالدین عبدالصمدعلیہ الرحمۃ العزیز عن ابیہ انہ کان بعض الفقراء فی خدمۃ  الشیخ الکبیر شھاب الدین علیہ الرحمۃ شھودالوحدۃ و مقام الفناء ولہ ذوق عظیم فاذاھو فی بعض الا یام یبکی ویتاسف قسالہ الشیخ عن حالہ فقال انی حجبت فی الواحدۃ بالکثرۃ وردت علی فلا اجد حالی فنبہ الشیخ علی انہ المقام البقاء وان حالہ بھذہ اعلی اوارفع من حال الاولی وامنہیعنی بیشک میں نے سنا" اپنے شیخ مولٰی نور الدین عبد الصمد علیہ الرحمۃ العزیز سے انہوں نے اپنے باپ سے کہ ایک د۔۔۔

مزید

حضرت شیخ جمال الدین لور

حضرت شیخ جمال الدین لور علیہ الرحمۃٰ           شیخ نجیب الدین کہتے ہیں کہ جب کوئی مجھے کہتا کہ لوری غریب اس شہر میں آیا ہے۔اس کا نام جمال الدین ہے۔وہ قوی جزبہ رکھتا ہے۔مسجد جامع میں رہتا ہے۔ت میں مسجد جامع میں گیا۔دیکھا کہ بڑے جذبہ والا ہےاور پورا استغراق رکھتا ہےاور اس کی دونوں آنکھیں،اس کے اثر سے دوخون پیالہ کی ظرح تھیں۔میں آگے گیا اور سلام کہا۔جواب دیا کہ مجھ کو سفید سیاہ کرنے والوں سے کام نہیں۔یعنی مجھ کو فقہا اور لکھنے والوں سے مطلب نہیں۔ایک شخص حاضر تھا۔اس نے کہا،یہ حضرت تو صوفی ہیں۔میں اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اس کے حالات کی بابت سوال کیا۔کہا،ایک مرس لور اور امی ہوں۔کچھ نہیں جانتا۔میں گھوڑوں سے بہت رغبت رکھتا تھا۔ایک روز صبح کے وقت گھوڑوں کے برابر میں بیٹھا ہوا تھا۔اتفاقاً مجھ پر حال کشف ہوگیااور جذبہ ظاہر ہوا۔تکبر کا حجاب مجھ سے اٹھا ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابراہیم مجذوب

حضرت شیخ ابراہیم مجذوب علیہ الرحمۃ آپ وہی ہیں"جن کا ذکر شیخ نجیب الدین علی برغش کے حالات میں گزرا ہے کہ وہ عجیب دیوانہ تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ چند روز کچھ نہیں کھاتا اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ایک ہی دفعہ سوسیر کھا جاتا ہے۔اس کے حالات و کرامات عجیب بیان کرتے تھے۔مجھے ان کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔میں نے اس سے کہا"آایک دن باہم مل کر رہیں۔وہ ایک بار بھی مانتا نہ تھا۔آخر ایک دن میں نے اس کو بازار میں دیکھا۔جاڑے کا موسم تھا۔کہا کہ یہ وہ وقت ہے کہ ایک جگہ ہم مل کر رہیں"لیکن یہ شرط ہے کہ آج کی رات بازار  کی مسجد میں رہیں۔پھر اس کے ساتھ مسجد میں گیا۔میں نے کہا"کھانا لاؤں؟ کہا"میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔پھر وہ چلاگیا۔بارش پڑنی شروع ہوئی پر نالے بہ نکلے۔جب مغرب اور عشاء کی نماز ہم نے پڑھ لی اور لوگ مسجد سے باہر چلے گئے۔تب میں اور وہ تنہا مسجد میں رہ گئے۔اس وقت کہا کہ میں بھوکا ہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد یمنی

حضرت شیخ محمد یمنی علیہ الرحمۃ شیخ نجیب الدین برغش علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں چند اصحاب کی جماعت کے ساتھ شیخ شہاب الدین علیہ الرحمۃ کی خدمت میں کھڑا تھا۔شیخ نے فرمایا  کہ یاروں میں سے کوئی خانقاہ سے باہر جائے۔ایک مسافر شخص کو جو باہر پائے"اس کو اندر لائے۔کیونکہ محبت کی بو میرے دماغ میں آتی ہے۔ایک بار باہر گیا تو وہاں پر کسی کو نہ پایا۔واپس آیاکہ میں نے تو وہاں کسی کو نہیں پایا۔شیخ نے غصہ سے فرمایا کہ دوبارہ جا کہ تجھ کو مل جائے گا۔دوبارہ گیا۔ایک حبشیدیکھا۔جس پر مسافرت اور غربت کے آثار تھے۔اس کو اندر لایا۔اس نے ارادہ کیا کہ جوتیوں کی جگہ پر بیٹھ جائے۔شیخ نے کہا"اے شیخ محمد نزدیک  آکہ تم سے محبت کی خوشبو آتی ہے۔وہ آگےبڑھا اور شیخ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔شیخ اور اس نے آپس میں بھید کی باتیں کیں۔پھر اس حبشی نے شیخ کی ران پر بوسہ دیا۔شیخ نے فرمایا  کہ دسترخوان لاؤ۔کچھ کھانا۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ظہیر الدین عبدالرحمٰن بن علی برغش

حضرت شیخ ظہیر الدین عبدالرحمٰن بن علی برغش رحمتہ اللہ تعالٰی آپ اپنے باپ کے خالف الصدق اور خلیفہ برحق تھے۔جب آپ کی والدہ آپ سے حاملہ ہوئیں تو شیخ شہاب الدین نے ان کے لیے اپنے ایک خرقہ مبارک کا ایک ٹکڑا ارسال کیا۔جب پیدا ہوئے تو ان کو اس مین لپیٹ دیا۔اول خرقہ  کو جو دنیا میں پہنا ہے"اس نے پہنا ہے۔جب بڑے ہوئے تو باپ کی خدمت میں مشغول ہوئے اور تربیت پائی۔باپ کی زندگی کے دنوں میں حج کو گئے۔عرفہ کی رات کو دیکھا کہ میں روضہ شریفہ رسول اللہﷺ میں آیاہوں اور سلام کہا۔حجرہ شریفہ میں سے آواز آئی"علیک السلام یا اباالنجاشی۔آپ کے باپ اس پر مطلع ہوئے اور اپنے اہل کو اس خواب کی خبردی۔ان کو خوشخبری سنائی کہ مقصود حاصل ہوگیا۔اس کے بعد درس کہا اور حدیث کی روایت کی  اور تصنیف شروع کی۔آپ کی تصانیف میں سے ایک یہ ہے کہ عوارف کا ترجمہ کیا ہے اور اس میں بہت سی تحقیقات جو کشف و الہام سے معلو م ہوئی ہیں"لک۔۔۔

مزید

حضرت سلطان ولد

حضرت سلطان ولد علیہ الرحمۃ           آپ نے سید برہان الدین محقق اور شیخ شمس الدین تبریزی کی لائق خدمتیں کی ہیں ،اور شیخ صلاح الدین کے ساتھ جو کہ ان کی بیوی کے باپ تھے،اچھا عقیدہ رکھتے تھے۔۱۱ سال تک چپلی حسام الدین کو اپنا قائم مقام اور باپ کا خلیفہ بنایا تھا۔کئی سال تک اپنے ولد کا کلام کی فصیح زبان اور فصیح بیان سے تقرر کیا کرتے تھے۔ان کی ایک مثنوی ہے،جو کہ حدیقہ حکیم سنائی کے وزن پر ہے۔بہت سے معارف و اسرار اس میں لکھے ہیں۔بارہا مولانا ان کو خطاب کرتے۔انت اشبہ الناس بی خلقا و خلقا یعنی تم مجھ سے خلق اور خلق میں بہت مشابہ ہو۔ان سے بہت محبت کرتے۔کہتے ہیں کہ آپ نے موٹے قلم سے مدرسہ کی دیوار پر لکھ رکھا تھاکہ ہمارا نہاؤالدین نیک بخت ہے،خوش زندگی اور خوش چلتا ہے۔واللہ اعلم کہتے ہیں کہ ایک دن ان پر مہربانی فرماتے تھے،اور کہتے تھے،اے بہاؤالدین ! میرا۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسام الدین حسن بن محمدؑ بن الحسن بن اخی ترک

حضرت شیخ حسام الدین حسن بن محمدؑ بن الحسن بن اخی ترک علیہ الرحمۃ           جب شیخ صلاح الدین انتقال فرما گئے،تو مولانا کی خدمت کی مہربانی اور ان کی خلافت چپلی حسام الدین کی طرف منتقل ہو گئی،اور عشق بازی کی بنیاد ان سے رکھی ۔مثنوی کی نظم کا باعث وہ ہوئے۔کیونکہ جب چپلی حسام الدین نے اصحاب کا ملان خاطر الہٰی نامہ حکیم سنائی اور منطق الطیر شیخ عطار اور ان کے مصیبت نامہ کی طرف دیکھا ،تو مولانا سے درخواست کی کہ غزلیات کے اسرار ہوگئے ہیں،اگر ایسی کتاب جس کی طرز الہٰی نامہ سنائی یا منطق الطیر کی ہو،نظم کی جائے۔تاکہ دوستوں کے لیے یادگار رہے،تو نہایت مہربانی ہوگی۔مولانا نے اسی وقت اپنے دستار کے سرے سے ایک کاغذ چپلی کے ہاتھ میں دیا۔جس پر اٹھارہ بیت اول مثنوی کے لکھے ہوئے تھے۔اس شعر سے۔             ۔۔۔

مزید