حضرت احمد کتابی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ میاں احمد کتابی رَحِمَہُ اللہ کے والد محمد اکرم گجرات سے نقلِ مکانی کر کے ٹھٹھہ میں آباد ہوگئے تھے، علم و عمل کے اعتبار سے ان کو پورے ٹھٹھہ میں شہرت حاصل تھی ان کے دو صاحبزادے تھے: ایک کا نام میاں عباس تھا اور دوسرے کا میاں احمد ’’ کتابی‘‘ کا لقب ان کو بارگاہِ نبوّت سے عطا ہوا تھا، ٹھٹھہ کے مشہور عالم مخدوم عنایت اللہ بھی ان کے شاگرد تھے۔ میاں احمد کتابی بڑے صاحبِ علم و فضیلت و کشف و کرامت تھے، آپ کا مزار مکلی پر شیخ جید کے مزار کے شمال میں واقع ہے۔ (تحفۃالکرام، ج۳، ص ۲۲۴؛ تحفۃالطاہرین، ص۳۶) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت احمد بن ہوتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بلند پایہ بزرگ اور مستجاب الدعوات ولی تھے، کبھی کبھی حلقۂ سماع میں جاتے تو وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ ان کے بھائی محمد، جو خود بھی صاحبِ کمال ولی تھے، ہمیشہ ساتھ رہتے تھے؛ لوگ دور دور سے ان کی خدمت میں دعا کرانے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی سی صورت پیدا ہوگئی، لوگ آپ کی خدمت میں دعا کرانے کے لیے حاضر ہوئے۔ اُس وقت حلقۂ سماع منعقد تھا، اتفاقاً رکن الدین ولد دتّہ، جو خود بھی ایک عظیم صوفی بزرگ تھے، حلقے میں آگئے؛ اُن کی ہیبت سے حلقۂ سماع میں کھلبلی مچ گئی، مگر حضرت نے مطلق آنے والےکی طرف دھیان نہ دیا۔ جب حضرت سے وجد کی کیفیت زائل ہوئی تو آپ نے بے ترتیبی اور سراسیمگی کا۔۔۔
مزید
حضرت ابو تراب ترابی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کہاجاتا ہے کہ پورے برِّصغیر پاک و ہند کے پہلے صوفی بزرگ شیخ ابو تراب تھے، یہ شرف سر زمینِ سندھ کو حاصل ہے کہ اس برِّصغیر کے پہلے صوفی اس خطۂ زمین پر آسودہ خواب ہیں ، شیخ ابو تراب بنو عباس کی حکومت کی طرف سے سندھ کے علاقوں پر حاکم مقرر ہوئے تھے، آپ تبعِ تابعین سے تھے۔ آپ شہید ہوکر ٹھٹھہ سے ۱۰ میل کے فاصلے پر مدفون ہوئے۔ مزارِ مبارک پر جو کتبہ نصب ہے اس پر سنِ تعمیر ۷۷۱ ھ درج ہے۔ آپ شیخ ترابی کے لقب سے مشہور ہیں۔ (تحفۃ الکرام، ج۳، ص ۲۵۳) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت احمد صاحب، مولانا بھر چونڈوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مولانا احمدبن مولانا عبدالغفار بھرچونڈوی مستجاب الدعوات ولی تھے، بلا امتیازِ ملّت و مذہب لوگ آپ کے معتقد ہیں، حلقۂ معتقدین بہت وسیع ہے، جب بازار سے گزرتے تو ہندو اپنے ترازو بھول کر آپ کے پیچھے چل پڑتے۔ جب حضرت حافظ محمد عبداللہ بھرچونڈوی کا وصال ہوا تو حضرت عبدالرحمٰن بھرچونڈوی کی رسمِ دستار بندی آپ نے فرمائی، آپ سندھی کے بہترین شاعر تھے ،آپ نے مشکوٰۃ شریف کا سندھی ترجمہ کیا ہے اور بعض دوسرےعلمی رسائل بھی تصنیف کیے ہیں۔ سندھی زبان میں آپ صاحبِ دیوان تھے ، تاریخ ِ وفات اور مقامِ دفن معلوم نہ ہوسکا۔ (عبدالرحمٰن، ص ۱، ۲۱، ۲۱۲) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت ابو الحسن داہری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ الحاج عارف باللہ صوفیِ باصفا ، عالمِ باعمل ، متکلمِ بے بدل ، محدثِ زمانہ ابو الحسن داہری نقشبندی بارھویں صدی ہجری میں نواب شاہ سندھ کے رہنے والے تھے، ظاہری علوم سے فراغت کے بعد شیخ عبدالرّسول صدّیقی نقشبندی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، متعدد کتابوں کے مصنّف ہیں، ان میں: ’’یَنَابِیْعُ الْحَیَاۃِ الْاَبَدِیَّۃ فِیْ طُرُقِ اَصْلَابِ النَّقْشْبَنْدِیَّۃ‘‘ مشہور و معروف ہے، اس میں حدیث، فقہ، تصوّف اور علمِ اَخلاق کے بہترین مضامین شامل ہیں۔ (تذکرۂ مشاہیرِ سندھ، ص ۱۲۴) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت ابراہیم سیّد علامہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ علامہ سیّد ابرہیم صاحبِ ورع بزرگ تھے، علمِ جفر وغیرہ کے ماہر تھے۔ شیخ حسن قُدِّسَ سِرُّہٗ سے علومِ معرفت میں استفادہ کیا اور تین مرتبہ چلّے میں بیٹھے۔ آپ کا مزار ٹھٹھہ میں مرشِد کے مزار کے پاس ہے۔ (’’تحفۃالطاہرین‘‘، ص ۱۰۹) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت ابراہیم بخاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ عارفِ کامل اور محقّقِ اجل تھے۔ صاحبِ کرامت تھے، ایک نابینا شخص خدمت میں آیا اور گزارش کی کہ میری نابینائی کی واپسی کے لیے کچھ کریں ۔ آپ نے فرمایا اب تیر قضا کی کمان سے نکل چکا ہےیہ تو نہیں ہوسکتا ؛البتّہ کشائشِ رزق کا انتظام ہوسکتا ہے، تم ہر روز بعدِ عشا دو رکعت نفل پڑھ کر ان کا ثواب امامینِ کریمین کی روح کو پہنچا یا کرو اور مصلّے کے نیچے ہاتھ ڈال کر دو روپیہ اٹھا لیا کرو۔ چناں چہ وہ شخص جب تک زندہ رہا اس کو دو روپیہ روزانہ ملتے رہے۔ آپ کا مزار ٹھٹھہ کے محلّہ نندسر میں واقع ہے۔ (’’تحفۃالطاہرین‘‘، ص ۱۴۴) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت ابنِ محمد ثانی ہالائی مخدوم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مخدوم امین محمد ولد مخدوم محمد زمانِ ثالث حضرت مخدوم نوح سخی سرور کی اولاد سے تھے اور سجادہ نشین تھے۔ ۱۹؍ رجب ۱۲۵۶ھ میں پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیوی دولت سے بھی نوازا تھا۔ آپ کے ہم عصر پیر سیّد رشید الدین پیر جھنڈا ثالث تھے۔ آپ کو ان سے فطری محبّت تھی۔ آپ بلند پایہ شاعر تھے۔ سندھی میں شعر کہتے اور تمام اصنافِ شعر پر عبور حاصل تھا۔انسانیت کے اعلیٰ اوصاف آپ کی ذات میں بہ درجۂ اتم موجود تھے۔ ۴۷؍ سال کی عمر میں وفات پائی، ۲۷؍ رمضان ۱۳۰۳ھ سنِ وفات ہے۔ متعدّد شعرا نے آپ کے مرثیے لکھے اور تاریخِ وفات بھی ؎ ز ترحیل مخدوم جان جہان جہاں شد گرفتار رنج و تعب ازاں روز و شب قدر گفتم بجان محمد امین گشتہ واصل برب (’’تذکرہ مشاہیرِ س۔۔۔
مزید
حضرت ابو بکر نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آپ مخدوم ابراہیم نقشبندی کے صاحبزادے تھے اور خلیفہ تھے ۔ کہتے ہیں کہ بعد از وفات جو آپ کا جنازہ لے کر گئے تو پردۂ غیب سے ہزاروں پرند نمودار ہوکر جنازے پر سایہ فگن ہوگئے اور جو ں ہی جنازہ کاندھوں پر سے، اتار ا گیا پر ند غائب ہوگئے۔ آپ کامزار مکلی پر ہے۔ (تحفۃالطاہرین، ص ۸۰) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت ابراہیم سیّد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بلند پایہ بزرگ ہوئے ہیں ، ایک دن مسجد میں بیٹھے تھے کسی نے مال چرانے کی خاطر شہید کردیا۔ آپ کا مزار خشتی حویلی کے گوشے میں ٹھٹھہ میں واقع ہے۔ (’’تحفۃالطاہرین‘‘، ص۱۰۷) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید