آپ کانام عبدالمجید۔المعروف حکیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھا۔چونکہ آپ علم طب میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔اس لیےاس لقب سے مشہورہوئے۔جولوگ آپ کانام عبدالحکیم بیان کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ آپ میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم بن جانی کے فرزند اکبرتھے۔آپ کی والدہ ماجدہ کانام حضرت حسین خاتون بنتِ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھا۔آپ کی بیعت ِ طریقت اپنے ناناحضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ سے تھی۔صاحب مناقباتِ نوشاہیہ نےآپ کو حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اکابرخلفأیعنی بائیس صوبوں میں شمارکیاہے۔کتاب گلزار فقرأ میں بھی اسی طرح ہے۔ دعائے والد آپ کے والدبزرگوارنے دعادی تھی کہ زمینداری تیری اور تیری اولاد کی ہے۔چنانچہ آج تک یہ آپ کی اولادمیں موجود ہے۔ اولاد آپ کی اولاد کو بنام حکیمی موسوم کیاجاتاہے۔آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔میاں غلام رسول رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔میاں فیض بخش رحمتہ اللہ علیہ ۔۔۔۔
مزید
آپ کانام ونسب عام طورپریہ بیان کیاجاتاہے۔عبدالرحیم بن جانی بن ابراہیم بن بوڑا بن فتح محمد قوم بھٹی اور آپ کا اصلی وطن جلال پور بھٹیاں بیان کیاجاتاہے۔مگرایک پورانی تحریرجو ۱۱۲۱ھ کی ہے۔ اُس پرآپ کانام ابراہیم ولد جانی قوم کیڑولکھاہےاور سکونت موضع اورنگ شاہ پورڈلّالکھی ہے۔جو بھڑی کاقدیمی نام تھا۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ آپ آباؤاجدادسے بھڑی کے رہنے والے تھے اور ابراہیم کا تلفظ بدل کرعبدالرحیم مشہورہوگیا۔ بیعتِ طریقت ایک پورانی تحریرمیں جو میاں لدھانورپوری کے گھرمیں تھی۔آپ کا نام "میاں عبدالرحیم چشتی"لکھاہے۔جس سے ثابت ہوتاہے کہ آپ چشتی سلسلہ میں بیعت تھے اور کتاب مناقبات نوشاہیہ اورگلزارفقراوغیرہ کتابوں میں حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خلفأ کی فہرستوں میں کہیں آپ کانام درج نہیں۔مگررسالہ سبیل سلسبیل۱؎میں آپ کو حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کامُریدلکھاہے۔آپ کی اولادبھی اس۔۔۔
مزید
اگرچہ عام طورپریہی مشہورہے کہ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ مگر تاریخ مخزن پنجاب میں چارصاحبزادیاں لکھی ہیں۔چوتھی کا نام کہیں سے معلوم نہیں ہوا۔غالباً یہ بھی اپنی ہمشیرہ کے بعد میاں ابراہیم بن جانی کے نکاح میں آئیں ۔واللہ اعلم۔ قسم دوم اس میں حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دامادوں اور نواسوں اور دختری اولادکے حالات ہیں۔ چونکہ دوبیٹیوں کی اولاد باقی ہے۔اس لیے اس قِسم کو دوبابوں میں تقسیم کیاگیاہے۔ بابِ اول میں فریق رحیمیہ کے بزرگوں کے حالات ہیں۔جو آپ کے داماد میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم رحمتہ اللہ علیہ کی طرف منسوب ہے۔جوحضرت حسین خاتون رحمتہ اللہ علیہادختر پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے شوہرتھے۔اس میں نو فصل ہیں۔ان میں بالترتیب نوپشتوں کے حالات ہیں۔ باب دوم میں فریق بختاوریہ کے صاحبزادگان کے حالات ہیں جوآپ کے نواسہ میاں محمد بختاور رحمتہ اللہ علیہ کی طرف منسو۔۔۔
مزید
آپ صابرہ شاکرہ مقبولانِ درگاہِ خداسے تھیں ۔حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تیسری صاحبزادی تھیں۔والد بزرگوارکی بیعت سے مشرّف تھیں۔ اوصاف آپ طریقہ سلوک و تصوّف کی ماہر تھیں ۔دریائے وحدت کی شناور۔صاحب اخلاق حسنہ تھیں۔والد کی خدمت کوسعادت سمجھتی تھیں۔ نکاح آپ کا نکاح اپنے برادرعم زاد میاں شکرعلی بن شیخ الٰہ داد بھڑی والہ رحمتہ اللہ علیہ سے ہواتھا۔ایک شجرہ میاں محمد علی بن میاں خدا بخش صاحب زمانی بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے گھرمیں موجود ہے۔اُس میں آپ کے شوہر کانام میاں عبدالکریم لکھاہے۔چونکہ متواتر اًن کانام شکرعلی مشہورچلا آتاہے۔اس لیے ممکن ہے کہ انہیں کالقب عبدالکریم ہو۔ اولاد آپ کا ایک ہی فرزند میاں محمد بختاورنام تھا۔ وفات ۱۱۵۱ھ۔ مدفن حضرت فتح خاتون کی قبربھڑی شریف درگاہِ رحمانیہ سے مشرقی جانب چبوترہ پرہے۔ (سریف التو۔۔۔
مزید
آپ عارفات کاملات اورمستورات صالحات سے تھیں۔حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی دوسری صاحبزادی تھیں۔بیعت طریقت والد بزرگوارسے تھی۔ نکاح آپ کانکاح میاں ابراہیم بن جانی کیڑو سے ہواتھا۔جن کو عام طور پر عبدالرحیم کہاجاتاہے۔ اوصاف آپ یادِ خدامیں ہر وقت مصروف رہتیں۔نیک نہاد پارساصاحب زہدوہوا۔تو آپ نے عرض کیا۔آپ کے بعد میراکون ہمدرداور غمخوار ہوگا انہوں نے فرمایا۔بیٹی تم کو کس چیزکی کمی نہ ہوگی اور میاں برخوردارہرل تمہارابھائی ہے وہ تمہاری خدمت کیاکرےگا۔ اولاد آپ کے تین بیٹےتھے۔ ۱۔حکیم عبدالمجید المعروف حکیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔میاں محمد زمان رحمتہ اللہ علیہ ۳۔میاں جیوا شاہ رحمتہ اللہ علیہ۔ وفات ۱۱۴۴ھ۔ مدفن حضرت حسین خاتون کی قبردرگاہ رحمانیہ سے شرقی جانب چبوترہ پرہے۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
دُختران حضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہا آپ کی چاربیٹیاں تھیں۔ آپ مریم زمان۔خدیجہ دوران۔رابعہ وقت تھیں۔تجرید وتفرید میں یگانہ تھیں۔حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بڑی صاحبزادی تھیں۔طریقت میں انتساب بھی والدصاحب رحمتہ اللہ علیہ سے ہی تھا۔آپ نے نکاح نہیں کیا۔تمام عمریادِ حق میں گذاردی۔دنیااوراہلِ دنیاسے کوئی سروکارنہ تھا۔ریاضات ومجاہدات میں یکتاتھیں۔عورتوں میں آپ کا فیض ارشاد بہت تھا۔ قبولِ ہدیہ منقول ہے کہ میاں شادی لوہارساکن کیلیانوالہ نے جو حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مقبول یاروں میں سے تھے۔ایک بار آپ کو چاندی کے کنگن ہدیہ میں دیئے تھے۔ آپ نے قبول کئےاور ہاتھوں میں پہنے۱؎۔ وفات ۱۱۴۰ھ۔ مدفن حضرت جواہر خاتون کا مزاردرگاہِ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے شرقی جانب چبوترہ پرہے۔ ۱؎تذکرہ نوشاہیہ ۔۔۔
مزید
آپ حضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی اہلیہ محترمہ تھیں۔کتاب تذکرہ نوشاہیہ میں آپ کانام بی بی ظُہری لکھاہے۔جوزُہرہ کاتبدیل شدہ لفظ ہے۔آپ کے بطن سے آپ کی دُختری اولاد ہوئی۔آپ بڑی پاک باز۔ نیک نہاد۔خدایاد۔صاحبِ تقوےٰ وطہارت تھیں آپ کی قبر معہ اہلیہ حضرت شیخ الٰہ داددرگاہِ عالیہ رحمانیہ سے باہرشمال کی طرف ایک فرلانگ کے فاصلہ پر پختہ چبوترہ پربنی ہوئی ہے۔دونوں قبریں زیارت گاہ موجودہیں۔۱۳۵۳ھ میں اولاد نے پختہ بنوادی ہیں۔ وفات ۱۱۳۵ھ۔ فائدہ ۱۳۷۹ھ میں مجھے میاں محمد علی بن میاں خدابخش زمانی بھڑیوالہ کے گھرسے چار قلمی دستاویزیں دستیاب ہوئیں۔جو چند مستورات عالیات صالحات کے نام قطعات زمین کی جاگیر کے متعلق تھیں۔جو عہداورنگ زیب عالمگیرمیں حکومت کی طرف سے ان کو ملی تھی۔ان میں سے پہلی دستاویز میں مسمات ماہی اور بختاورخاتو۔۔۔
مزید
المعروف میاں جانی صاحب ۔آپ شیخ صالح محمد المعروف میاں سہال قریشی اسدی (مہند)کے تیسرے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت اپنے حقیقی چھوٹے بھائی شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ تبلیغ اسلام آپ عالم وفاضل تھے۔وعظ و نصیحت میں سرگرم رہتے ۔شریعت کی ترویج میں ہردم کوشش کرتے۔تبلیغ اسلام کے واسطے کابل کی طرف چلے گئے۔پھرواپس نہ آئے۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ صالح محمد المعروف میاں سہال قریشی اسدی(مہند)کے دوسرے بیٹے تھے بیعت و خلافت اپنے چھوٹے بھائی شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ آپ صاحب علم و فضل و یگانہ روزگارشیخ وقت تھے۔شریعت و طریقت کے پابند زاہدوعابدتھے۔ نقش نگین شیخ الہٰداد رحمتہ اللہ کے ذکرمیں جوبیعنامہ فارسی میں درج کیاگیاہے۔اُس کے گواہان میں آپ کی مُہرثبت ہے۔جس پریہ الفاظ ہیں۔ ۱۰۹۵ &n۔۔۔
مزید
آپ سائرِ میدانِ تفرید،واقف علومِ توحید۔صاحب زہدوتقوٰے وعلم و سخاوت تھے۔حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے جلیل القدر خلیفوں میں سے تھے۔ نام و نسب آپ کا نام الٰہ داد۔والدکانام شیخ صالح محمد المعروف میاں اسہالی تھا۔خاندان قریشی اسدی(مہند)سے تھے۔ آپ حضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بھائی تھے۔لیکن چونکہ مرتبہ کے لحاظ سے اُن سے کم تھے۔اس لیے آپ کے حالات اُن سے بعد لکھے گئے ہیں۔نیزحضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ بانی خاندان تھے۔اس لیے اُن کے حالات پہلے ہی درج ہونے چاہیئے تھے۔ بیعت و خلافت آپ کی ولادت بھڑی میں ہوئی۔تعلیم و تربیّت وہیں پائی۔جن ایّام میں حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو بچپن میں جذبہ دانگیرہواتوعوام الناس ان کو "رحماں دیوانہ" کہنے لگے۔آپ انکو بغرض دعائے صحت حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں لائے۔ آنجناب نے ایک ہی نگاہ سے دونوں بھائیوں کوبدر۔۔۔
مزید