مشہورنام خیرشاہ تھا۔خلفِ اصغر شیخ چراغدین بن شیخ بودلے شاہ بن شیخ حمزہ شاہ صاحب جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ آپ کی بیعت طریقت میاں امام شاہ بن میاں اکابرشاہ صاحب رحمانی بِھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔انہیں سے خلافت و اجازت حاصل کی۔آپ لاولد فوت ہوئے۔ یارانِ طریقت آپ کےخواص احباب یہ تھے۔ ۱۔شیخ عطرشاہ بن شیخ بٹھوشاہ صاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ بَسرار ضلع سیالکوٹ ۲۔شیخ شاہ دین بن شیخ بٹھو شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ بَسرار ضلع سیالکوٹ ۳۔شیخ عمرالدین بن شیخ شرف الدین صاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ ساہنپال شریف ضلع سیالکوٹ ۴۔شیخ غلام محمد بن شیخ شرف الدین صاحب۔۔۔
مزید
آپ شیخ جیون شاہ بن شیخ عبداللہ شاہ صاحب مانگہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاصاحب بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے پایا۔ اخلاق و عادات آپ بڑے صاحب یمن وبرکت ۔اہلِ ریاضت تھے۔رزق حلال کے واسطے اکثرزراعت پیشہ کیاکرتے۔موضع اگرویہ میں سکونت رکھتے۔کبھی کبھی انگسارنفس کے واسطے گدائی بھی کرلیاکرتے۔ شکریہ الٰہی اللہ دتہ موچی سانگ والہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ بڑاقحط پڑا۔آپ گدائی کرتے ہوئے موضع سارنگ میں چلے آئے۔ایک عورت نے پوچھاجناب قحط میں آپ کی گذر اوقات کیسے ہوتی ہے۔آپ نے فرمایاسنو!ہم لو توپِساہواآٹالے جاتے ہیں اورماچھی لوگ گندھاگندھا یاآٹالے لیتے ہیں اورمُلّا لوگ رات کوپکاپکایاکھانالے جاتے ہیں۔لہذا ہم تین گھروں کوتو قحط یادبھی نہیں۔خداکاشکرہے۔ دشمنوں کی نظربندی مسمّی گہنامچھیانہ اگرویہ والہ سے منقول ہے کہ آپ ہمارےساتھ مشترکہ کاشت کیاکرتے تھے۔۔۔
مزید
آپ شیخ صِدقی شاہ بن شیخ خان بہادرصاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند ارجمند تھے۔ خلافت و اجازت شیخ پُھلّے شہ بن شیخ فتح الدین صاحب سلیمانی رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔ اخلاق و عادات آپ کامل وقت ریاضت ومجاہدہ کرنے والے۔بے سوال۔ذاکرحق۔زاہد بے مثل تھے۔صبروشکرو قناعت میں لاثانی تھے۔اہل دنیاسے نہایت اجتناب رکھتے ۔اگرکوئی شخص نذرانہ نقدی وغیرہ آپ کے آگے رکھتاتوآپ ہاتھ نہ لگاتے۔کوئی دوسراشخص پکڑ کر پہنچادیتا۔ ہر وقت باوضو رہاکرتے۔ فائدہ:۔ بزرگانِ دین میں کئی حضرات ایسے گذرے ہیں جو سونے کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔چنانچہ ۱۔شیخ محمد شیخ عارف چشتی صابری رحمتہ اللہ علیہ نے کبھی سوناچاندی کو ہاتھ نہ لگایا۱؎۔ ۲۔شیخ محمداعظم چشتی نظامی رحمتہ اللہ علیہ نے کبھی سونے کوہاتھ نہیں لگایا۲؎۔ پرہیزگاری سیدمحمد حسین بن سیّد بنے شاہ صاحب ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کہتے تھے۔ کہ میرےسامنے ب۔۔۔
مزید
خلف الرشید عطأ اللہ بن شیخ عبدالہادی بن شیخ عنایت اللہ صاحب سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ ۔آپ کامل بزرگ تھے۔خرقہ خلافت واجازت اپنے برادرعم زاد شیخ بڈھاصاحب سجادہ نشین سے پایا۔ اولاد آپ کی اولادنہیں تھی۔اس لیے شیخ بڈھاصاحب رحمتہ اللہ علیہ سے اُن کا بڑا بیٹا شیخ احمد لے کراپنامتبنّیٰ بنایااوراپنی جائیداد کا وارث کیا۔ یارانِ طریقت آپ کے مریدوں سےتین کس صاحب خلافت تھے۔ ۱۔شیخ احمد صاحب مجذوب متبنّیٰ رحمتہ اللہ علیہ گھنگول ضلع سرگودھا ۲۔شیخ احمد الدین بن شیخ بڈھاصاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ چَاوہ ضلع سرگودھا ۳۔شیخ گوہرشاہ۔۔۔
مزید
شیخ بڈھادستگیراولیأ شاہِ زماں واقفِ سرِّ حقیقت رہنمائے گمرہاں آپ شیخ فیض بخش بن شیخ عبدالہادی صاحب بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراورسجادہ نشین تھے۔اکابراولیائےخاندانِ نوشاہیہ سلیمانیہ سے تھے۔صاحب جذب وسکرو وجدو سماع تھے۔ تعلیم وبیعت و خلافت آپ نے ابتدأمیں ظاہر ی تعلیم پائی۔قرآن مجید قرایت و تجوید سے پڑھا۔ملکہ کتب خوانی ہوگیا۔پھرخواجہ شاہ محمد دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کرکے خرقہ خلافت حاصل کیا۔خواجہ صاحب فقرائے نوشاہیہ میں کامل اکمل درویش تھے۔ان کا ذکر کتاب ہذا کی تیسری جلد موسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے چھٹے حِصّہ صحائف الاسرار کے نام میں لکھاجائے گا۔ انشأ اللہ تعالیٰ۔ شجرہ بیعت شیخ بڈھا صاحب مریدخواجہ شاہ محمد دہلوی المعروف چراغ علی درویش رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مرید سیّد محمد حسن بن سیّد خدابخش صاحب برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کے جن کا ذکرطبقہ ۔۔۔
مزید
آپ شیخ ہچھےشاہ بن شیخ حمزہ شاہ صاحب جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔آپ کی طبیعت میں جلال غالب تھا۔ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔آپ کے حکم سے جس کسی نے سرتابی کی وہ ضرورسزایاب ہوا۔ منکروں کاسزاپانا ایک مرتبہ سِکّھوں کے ویلنے پررَوہ (گنےکارَس) لینے گئے۔اُنہوں نے دینے سے انکارکردیا۔اورکچھ سخت سُست بھی کہا۔آپ ناکام واپس لَوٹ آئے۔راستہ میں ایک درویش ملا۔اُس نے طعنہ دیاکہ تم نے خوب مزہ سے رَس پی ہے۔آپ کی طبیعت کوجوش آگیااورکہاکہ اب پی کر ہی دم لوں گا۔اِدھریہ کہناتھاکہ اُدھر سکّھوں کے کمادکوآگ لگ گئی۔ہرچند بُجھانے کی کوشش کی مگرنہ بُجھ سکی۔آخر انہوں نے رَوہ (رَس)کاایک گھڑا بھرکرآپ کی خدمت میں لاکر حاضر کیااوربصد الحاح گناہ کی معافی لی۔آپ نے کہاجاؤ۔آگ بُجھ جائے گی۔جب گئے تو آگ بجھ چکی تھی۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔شیخ شہمیرشاہ اوربقولے شیخ پیرشاہ صاحب لاولد۔۔۔۔
مزید
آپ شیخ بودلےشاہ بن شیخ حمزہ شاہ صاحب جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔اپنے دادا صاحب شیخ حمزہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو بھی دیکھاتھا۔ فقرومسکنت آپ کےدل میں دنیاکی محبّت نہ تھی۔اہل فقر۔مسکین طبع۔کامل درویش تھے۔موضع ساہن پال شریف میں سکونت پذیرہوئے۔ طاعون کادُورہونا منقول ہے کہ آپ کی وفات کے بعدایک مرتبہ اس علاقہ میں طاعون پھیل گئی۔ساہن پال میں بھی موتیں واقع ہونےلگیں۔ایک رات میاں صلاح ترکھان ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کوخواب آیاکہ گاؤں کے پاس کسی افسرنے آکرخیمے لگوائے ہیں اور شیخ ناصرالدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ اُس کوجِھڑک فرمارہے ہیں: "ابے نٹروا۔یہاں سے تنبواکھاڑلے"۔ چنانچہ اُس نے خیمے اٹھالئےاور آگے چلاگیا۔میاں صلاح نے سمجھ لیاکہ اب آپ کی برکت سے طاعون چلی جائے گی۔چنانچہ اسی طرح ہوا۔چندروز میں امن وامان ہوگیا۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ۱۔شیخ شرف الد۔۔۔
مزید
آپ شیخ عبداللہ شاہ بن شیخ دین پناہ صاحب بسراوی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزندتھے۔بیعت و خلافت شیخ پھلّے شاہ بن شیخ فتح الدین صاحب سلیمانی رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔ جسمانی ورزش آپ کاقد وقامت بلندوقوی تھا۔جوانی میں جسمانی ورزش کابہت شوق تھا۔ بُگدر اُٹھاتے۔مُنگلی پھراتے۔روزانہ ورزش کیاکرتے بیٹھکیں اور ڈنڈنکالتے۔قوی الامین صاحب یمن و برکت تھے۔کبھی موضع اگرویہ میں اورکبھی موضع مانگہ میں سکونت رکھتے۔ آپ کی بے فرمانی کا نتیجہ منقول ہے کہ موضع مانگہ موچیوں سے آپ کو بہت محبّت تھی۔ اکثر اُن کے پاس نشست وبرخاست رکھتے۔وفات کے وقت وصیّت کی ۔کہ میر ی قبراپنے دکان پر بنوانا۔اگرتعمیل نہ کروگےتو ویران ہوجاؤگے۔اولادکو بھی کہاکہ اگردکان پر مجھے دفن کروگے تو نذر ونیاز عام آوے گی اورتمہاراروزینہ جاری رہے گا۔اگرامرنہ مانوگے تومفلس الحال اور غریب ہوجاؤ گے۔چنانچہ وفات کے بعد اس امرکی تعمیل کس۔۔۔
مزید
آپ شیخ خان بہادربن شیخ نورجمال صاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کےاکلوتے بیٹے تھے۔ بیعت و خلافت شیخ جوائے شاہ بن شیخ فتح الدین صاحب سلیمانی سَیدنگری رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔جذب و سُکر آپ کی طبیعت میں غالب تھا۔قلندرانہ طریق رکھتے تھے۔ بے وفاکوسزادینا منقول ہے کہ آپ فضلاں نام ایک قصاب عورت پر عاشق تھے۔اس کو بھی آپ کے ساتھ پوری طرح موانست تھی۔جَب آپ کا وقت وفات قریب ہواتوا س کوبلایااور کہا فضلاں جن آنکھوں سے تونے مجھ کو دیکھاہے۔ان سے کسی اورکوبھی دیکھے گی۔اُس نے عرض کیا۔ آپ کے سواکسی کونہ دیکھوں گی۔آپ نے کہاعورتوں کاکچھ اعتبار نہیں ہوتا۔تومیری طرف دیکھ۔ جب اس نےآنکھیں چارکیں توآپ نے ایسی نگاہ کی کہ اُ س کے دونوں آنے تڑپ کر آنکھوں سے باہر آپڑےاورنابینی ہوگئی اوربعدازاں تمام عمرآپ کی قبرکی مجاور بنی ہری۔ اولاد آپ کے ایک ہر فرزند شیخ چنن شاہ صاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ تھے۔۔۔
مزید
آپ شیخ پُھلے شاہ بن شیخ فتح الدین صاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے اور مریدوخلیفہ تھے۔صاحب عشق و محبّت و ذوق و شوق تھے۔ نظروں سے غائب ہوجانا آپ قلندرمشرب تھے۔ملنگانہ روش رکھتے۔ملاقیہ طریق تھا۔ رسول نگر میں ایک پنڈت عورت سے آپ کو محبّت ہوگئی۔ایک دن چوبارہ پراُس کے پاس بیٹھے تھے۔برہمنوں کو خبرہوئی۔انہوں نے باہر سے دروازہ مقفل کردیااورآپ کو گرفتارکرکے ایذا پہنچانےکاارادہ رکھتے تھے۔جب لوگوں کا زیادہ ہجوم ہوگیا۔توکسی نے کہاکہ شیخ فقیر بخش صاحب کو تو میں نے بازارمیں دیکھاہے۔آخر سب نے دیکھاکہ آپ رومال سے چہرہ پونچھتے آرہے ہیں اور فرمانے لگے یہ کیساشورہے؟ یہ کرامت دیکھ کر سب مطیع ہوگئے۔ شادی کاعجیب واقعہ منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ عرس نوشہرہ شریف پر جا رہے تھے۔راستہ میں دو عورتیں کپاہ چُن رہی تھیں۔آپ اُن میں سے ایک پر فریفتہ ہوگئے۔دوسری سے پوچھایہ کون ہے؟اس نے کہاکہ یہ م۔۔۔
مزید