آپ شیخ عبدالہادی بن شیخ عنایت اللہ صاحب سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبراورمریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔آپ اسم بامسمّےٰ فیض مجسم تھے۔ برادری میں اصلاح کتاب انوارالقادریہ میں ہے: "اگرمعاصرین برادری کی رخنہ اندازی سے مریدانِ خاندان میں اختلاف و تشتت رونماہوا۔مگر آپ کے حسن تدبّر اورزورِ تصرّف نے سب فروکردیئےاورسب مطیع و منقاد اور آپ کے فیض سے بہرہ یاب ہو گئے۔دورونزدیک آپ کے کمالات کاشُہرہ تھا"۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ا۔شیخ بڈھاصاحب ؒ۔۲۔شیخ محمد صاحبؒ یہ لاولد فوت ہوئے۔ مدفن شیخ فیض بخش کی وفات ۱۲۰۵ھ میں ہوئی۔مزاربھلوال شریف ۔گورستانِ سلیمانیہ میں ہے۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ حمزہ شاہ بن شیخ محمد آفتاب صاحب جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے فرزنداور مریدوخلیفہ تھے۔آپ سخاوت و ایثار میں اپنی مثال آپ تھے۔ہروقت تجلیات ذات میں مستغرق رہتے۔ صدقہ وخیرات منقول ہےکہ آپ کو مویشیوں کابہت شوق تھا۔چارسوبھینیں موجود ہوتی تھیں۔اُن کا دودھ اور مکھن غریبوں میں تقسیم کردیاکرتےتھے اور باوجود اس قدر ثروت کے رعونتِ نفس کوتوڑنے کےلیے گدائی کیاکرتے۔روزانہ نوسیر آٹاجمع کرتے۔اِس کے تین حِصّے کرتے۔ایک ہوائی جانوروں کا۔دوسراآبی جانوروں کا۔تیسراانسانوں کا۔پھر تیسرے کوتین حِصّے کرتے۔ایک مسافروں کا۔دوسرامسکینوں کا۔تیسرااپنے اہل و عیال کا۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند شیخ بَٹھوشاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ مدفن شیخ ہچھے شاہ کی وفات ۱۲۳۴ھ میں ہوئی۔قبرشریف قصبہ جوکالیاں ضلع گجرات میں اپنے والد ماجدکے جوارمیں ہے۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ عارف کامل اورفقیر اکمل تھے۔آپ شیخ حمزہ شاہ بن شیخ محمد آفتاب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراورمریدوخلیفہ تھے۔ دنیا سے دل سردہونا منقول ہے کہ آپ اوائل میں زراعت پیشہ کیاکرتے تھے۔ایک دن صبح کے وقت ہَل جوتنے کے لیے اُٹھے اُس وقت چڑیاں بول رہی تھیں۔ان کی آواز سُن کر آپ کو وجد ہوگیا۔دوپہرتک بیہوش پڑے رہے۔جب ہوش آئی تودنیاکی محبّت سے اُٹھ گئی اور ہر دم یادِ الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ اولاد آپ کے چا ر بیٹے تھے۔ ا۔شیخ رکن الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔شیخ چراغ دین صاحب رحمتہ اللہ علیہ۔ ۳۔شیخ ناصرالدین صاحب ۔ ۴۔شیخ قاسم الدین رحمتہ اللہ علیہ۔یہ لاولد فوت ہوئے۔ ؎ شیخ رکن الدین صاحب ؒ کے دوبیٹے تھے۔شیخ فضل الدین صاحبؒ شیخ اعظم الدین صاحبؒ۔ ؎ شیخ فضل الدین صاحب ؒ کے ایک فرزند شیخ ا۔۔۔
مزید
آپ خلاصۂ دودمانِ سلیمانی ۔واقف اسراررحمانی۔ولی کامل تھے۔آپ شیخ دین پناہ بن شیخ محمد آفتاب صاحب سلیمانی بسراوی کے فرزندارجمنداورمریدوخلیفہ تھے۔اہلِ سخاوت و شجاعت۔مہمان نواز غریب پرورتھے۔ زکوٰۃ و صدقہ منقول ہے کہ ایک مرتبہ تجارت کے ذریعہ آپ کے پاس پانچ ہزاردرہم روپیہ جمع ہوگیا۔آپ نے زکوٰۃ کاارادہ کیا۔توپہلے تمام مال کی زکوٰۃ چالیسواں حِصّہ فقرأ کو تقسیم کیا۔ اس کے بعد سارانصاب بھی راہ ِخدامیں صدقہ کردیا۔ شریعت و طریقت کاحج منقول ہے کہ ایک مرتبہ کسی امیرکے ہاں سے ایک تھیلی دیناروں کی آپ کو نذرانہ میں آئی۔آپ اُسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اورفرمایاکہ ہم پر حج کرنافرض ہوگیاہے۔اس کی ادائیگی میں ہرگزدیرنہ چاہیئے۔چنانچہ اسی وقت بیت اللہ شریف کی جانب عازم سفرہوئے۔اثنائے راہ میں ایک مفلس الحال غریب آدمی آپ کوملا۔اُس نے عرض کیا۔میں عیالدار اورتنگ دست ہوں۔میراکوئی ذریعہ معاش نہیں۔آپ کو اس۔۔۔
مزید
خلف الرشید شیخ نوجمال بن شیخ محمد آفتاب بن شیخ تاج محمود صاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے عم حقیقی شیخ حمزہ شاہ صاحب جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ کے مریدو خلیفہ تھے۔اکثر سیروسیاحت کیاکرتے۔ محبّت منقول ہے کہ آپ کا کسی گوجرکے ساتھ پیارتھا۔اُسی کےگھرڈیرہ رکھتے اُسی کے گھرمیں آپ کی وفات ہوئی۔آخری وقت میں اس کو وصیّت کی کہ ہماری قبراپنے گھرکے صحن میں بنانا۔چنانچہ اس نے اس طرح کیا۔اس کوآپ کی برکت سے مال واولاد میں کافی اضافہ ہوا۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند شیخ صِدقی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ وفات ۱۲۲۹ھ۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ فتح الدین بن شیخ محمد آفتاب صاحب سلیمانی رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر تھے بیعت وارادت اپنے حقیقی چچاشیخ حمزہ شاہ صاحب جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ فقر میں کمال پانا منقول ہے کہ ابتدائےاحوال میں آپ کاشتکاری کیاکرتے تھےایک مرتبہ بیساکھ کے مہینہ میں فصل گندم کی کٹائی کررہے تھے۔کہ شاہ راجن قتال بخاری رحمتہ اللہ علیہ ۱؎ (مدفون جُرامتصل علی پور چَٹھہ ضلع گوجرانوالہ) کے دربار کا مجاور بابادرباری شاہ سارے گاؤں سے بَھریاں (گندم کے گٹھے)لیتاہواآیااور آپ کو کہا شاہ راجن کی بَھری دو۔آپ نے کہا تم فقیروں سے بھی نہیں چھوڑتے۔اُس نے کہا ابھی تم فقیر نہیں۔صرف فقیروں کی اولادہو۔جب خود فقیر ہوجاؤگے تو بَھری نہ دینا۔آپ کویہ طعنہ نا گوارگزرا۔اسی وقت سب کاروبارچھوڑ کردرگاہِ عالیہ حضرت سخی شاہ سلیمان نوری رحمتہ اللہ علیہ پر بمقام بھلوال شریف چلے گئے۔جاتے ہی لاٹھیوں سے قبرکو۔۔۔
مزید
آپ شیخ فتح الدین بن شیخ محمد آفتاب صاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبرتھے۔بیعت طریقت اپنے حقیقی چچاشیخ حمزہ شاہ صاحب جو کالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔انہیں سے خلافت پائی۔ آپ اکابر حضرات سلیمانیہ نوشاہیہ سے تھے۔ تربیّت و تکمیل منقول ہے کہ آپ درگاہِ عالیہ سلیمانیہ پر چند روز معتکف رہے۔وہاں سے حکم ہواکہ تمہارافیض خواجہ اختیارشاہ قادری نوشاہی ساکن چننیاں ضلع گوجرانوالہ کے پاس ہے۔ چنانچہ آپ وہاں گئے۔آپ کو دیکھتےہی خواجہ صاحب نے فرمایا۔آج رات سے تمہارانتظارتھا۔اچھاہوا تم آگئے۔چنانچہ وہاں سے آپ نے فیض اخذکیااور تکمیل پائی۔ اوراووظائف آپ درود شریف مستغاث بامحل۔روزانہ بلاناغہ وظیفہ پڑھاکرتے تھے۔ مؤلف کتاب ہذاکے جد اعلیٰ حضرت سیّد حافظ الٰہی بخش مظہر حق بن سیدحافظ نوراللہ صاحب فرشتہ صفات برخورداری رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ مبارک کا لکھاہوادرودشریف آپ کے پاس موجود تھا۱؎۔ اس پر ت۔۔۔
مزید
آپ شیخ عنایت اللہ بن شیخ عبدالواحد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنددوم اور مریدو خلیفہ تھے۔ روایت حضرت سیّد حافظ محمد حیات صاحب ربانی برخورداری رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب تذکرہ نوشاہیہ میں ایک روایت آپ کی زبان سے درج کی ہے۔جس میں ایک سپاہی کا شیخ رحیم داد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادہ کو طمانچہ مارنااور سزایاب ہونامنقول ہے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند شیخ محمد حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ شیخ محمدحافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دو بیٹے تھے۔شیخ غلام شاہ صاحب لاولد شیخ موج الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ ۔یہ دونوں بھائی بھلوال شریف سے چل کر رسول نگرضلع گوجرانوالہ میں سکونت گزین ہوئے۔ شیخ موج الدین المعروف موج دریاصاحب رحمتہ اللہ علیہ کے دوبیٹے تھے۔شیخ ماہی صاحب رحمتہ اللہ علیہ ۔شیخ عمرشاہ صاحب لاولد۔ شیخ ماہی شاہ صاحب رحمتہ اللہ کا ذکرآٹھویں باب میں آوے گا۔ مدفن شیخ محمد شفیع کی وفات ۱۔۔۔
مزید
آپ شیخ عنایات اللہ بن شیخ عبدالواحد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراور مریداور خلیفہ وسجادہ نشین تھے۔ رعب وجلال صاحب انوارالقادریہ نے لکھاہے کہ آپ کا رُعب خداداداور ہیبت وہ تھی کہ جو شخص سامنے آتابولنے کی تاب نہ رہتی ۔جب تک آپ خود اس سے دریافت نہ فرماتے وہ لب کشائی کی جرأ ت نہ کرسکتاتھا۔جس سے مخاطب ہوتے۔وہ سمجھ لیتاکہ بیڑاپارہے۔جس کے عرض مطلب پر آپ ملتفت نہ ہوتے۔وہ ناکام ہی رہتا۔خلق کاانبوہ آپ کے دروازہ پر ہروقت رہتاتھا۔ برادری کا مطیع ہونا اگرچہ حسد سے برادری کے لو گ غائبانہ چہ میگوئیاں کرتےاورمخاصمت پر تُلے رہتےمگرکامیاب نہ ہوتے۔بالآخر اکثر احترام کرنے لگ گئے۱؎۔ فیوض ولایت آپ کی نظر میں ایک عجیب نشہ تھا۔جو دیکھ لیتاشیداووالہ ہوجاتا۔جو کوئی حل مشکلات کے لیے آتا۔کامیاب ہو کرجاتا۔آپ صاحب فتوحاتِ کثیرہ تھے۲؎۔ ۱؎انوار القادریہ ۱۲۔ ۲؎انوارالقادریہ &n۔۔۔
مزید
آپ عاشق ذاتِ خدامقبول حضرت کبریاتھے۔آپ حضرت شیخ محمد آفتاب بن شیخ تاج محمود قلندر سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اصغر اورمریدوخلیفہ تھے۔اپنے والد صاحب کے خلیفہ شیخ مرتضےٰ رحمتہ اللہ علیہ سے بھی فیض پایا۔کبھی مجذوب کبھی سالک ہوتے۔سیروسیاحت بھی کچھ عرصہ کی۔ موضع جوکالی میں سکونت رکھتے تھے۔ ذکرآبادی قصبہ جو کالیاں مرزااعظم بیگ نے کتاب تاریخ ضلع گجرات ص۱۳۶میں لکھا ہے۱؎: "یہ قصبہ شہرگجرات مقام ضلع سے جانب جنوب بفاصلہ چودہ کوس واقع ہے اور یہ جگہ جہاں اب قصبہ آبا د ہے کسی زمانہ گذشتہ سے بطورِ ٹبّہ کے ویران پڑی ہوئی تھی اور اس کانام جوکالیاں مشہور تھا۔ بمرورگیار ہ پشت مسمّی بھٹی جٹ گوت تارڑ نے بنظرآبادی اس پر قبضہ کر کے گاؤں بسالیا۔ اب تک اس کی اولاد مالک ہے۔پہلے تو یہ ایک گاؤں زمینداری تھا۔مگر عہد سکّھاں میں یہ گاؤں جائے تعلقہ ہوگیااور غلام چٹھہ نے کہ ہو حاکم اس تعلقہ کاتھا۔ق۔۔۔
مزید