ہفتہ , 29 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 16 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شیخ سیف الدین عبد الوہاب

حضرت غوث الاعظم﷜ ﷫کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی اپنے والد ماجد کے زیر سایہ حاصل کیے۔ جامع علوم و فنون تھے۔ تمام علومِ متداولہ میں پوری مہارت اور عبورِ کامل رکھتے تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد سجادہ نشیں ہوئے۔ مدرسۂ معلّٰی میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے ایک خلقِ کثیر بہرہ یاب ہُوئی۔ ایک دفعہ بلا دِ عجم کے سفر سے واپس آئے۔ تمام اقسامِ علوم میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ اپنے والدِ گرامی سے ان کی موجودگی میں وعظ کہنے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے اجازت دے دی۔ منبر پر تشریف لائے۔ علوم و فنون کی روشنی میں عالمانہ تقریر کی مگر حاضرین کے دل پر کچھ اثر نہ ہوا۔ اِن کے بعد اہلِ مجلس نے حضرت غوث الاعظم﷜ سے وعظ کہنے کی درخواست کی۔ آپ منبر پر تشریف لائے۔ فرمایا: شجاعت صبر کی ایک گھڑی ہے۔ ابھی اتنا ہی کہا تھاکہ اہلِ مجلس نے آہ و بکا شروع کیا۔ دیر تک یہی حالت رہی۔ شیخ سی۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حماد شیرہ فروش

حضرت شیخ حماد شیرہ فروش علیہ الرحمۃٰ           آپ شیخ محی الدین عبدالقادر ؒ کے شیخوں میں سے ہیں۔آپ امی تھے۔ان پر معروف و اسرار کے دروازے کھل گئے۔جن سے بڑے مشائخ کے پیشوا بن گئے۔شیخ عبدالقادر ؒ جوان تھے اور شیخ حمادی کی صحبت میں رہتے تھے۔ایک دن پورے ادب کے ساتھ ان کی خدمت میں بیٹھے تھے۔جب اٹھے اور باہر گئے تو شیخ حماد فرمانے لگے کہ اس عجمی کا ایسا قدم ہے کہ اپنے وقت میں تمام اولیاء کی گردن پر ہوگا اور ضرور ان کو حکم ہوگاکہ یہ لفظ کہیں قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ یعنی میرا قدم تمام ولی اللہ کی گردن پر ہے۔یہ ضرور کہے گا اور تمام اولیاء گردن جھکائیں گے۔شیخ حماد ماہ رمضان ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔شام کے علما میں سے ایک عالم جن کا نام عبداللہ ہے۔کہتے ہیں کہ میں علم کی طلب میں بغداد گیااور ابن سقا اس وقت میں میرا رفیق تھا۔مدرسہ نظامیہ بغداد میں ہم عبادت م۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلی

حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلی علیہ الرحمۃ آپ کی کنیت ابو محمد ہے۔علوی حسنی ہیں۔ابو عبد اللہ صومعی کے نواسہ ہیں۔ماں کی طرف سے آپ کی والدہ ام الخیرامتہ الجبار فاطمہ بیٹی"ابو عبداللہ صومعی کی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ جب میرا فرزند عبدالقادر پیدا ہوا تو رمضان میں دن کو کبھی دودھ نہ پیتا تھا۔ایک رمضان کا ہلال ابر کی وجہ سے چھپ گیا۔لوگوں نے آپ کی والدہ سے پوچھا۔انہوں نے کہا" آج عبد القادر نے دودھ نہیں بیا۔آخر معلوم ہوا کہ وہ دن رمضان کا تھا۔آپ کی ولادت ۴۷۱ھ میں ہوئی اور وفات ۵۶۱ھ میں۔آپ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا۔عرفہ کے دن باہر جنگل کو گیا۔ایک گائے کی دم کھیت کے لیے پکڑی۔اس گائے نے منہ موڑا اور کہا"اے عبدالقادر مالھذا خلقت ولا بھذا امرت یعنی اے عبد القادر  تم اس لیے نہیں پیدا کیے گئے اور نہ اس کا حکم ہوا ہے۔میں اس سے ڈرگیا اور واپس آگیا۔پھر میں اپنے آپ کو ٹھے پر چڑھا توحاجیوں کو دیکھا کہ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو عبداللہ صومعی

حضرت شیخ ابو عبداللہ صومعی علیہ الرحمۃ آپ گیلان کے بزرگ مشائخ میں سے ہیں اور زاہدوں کے سردار عالی حالت و ظاہر کرامت رکھتے تھے۔عجم کے بعض مشائخ  کو ملے ہیں۔مقبول الدعاتھے۔جب آپ غضب میں آتے تو حق تعالٰی ان کے غضب کا بدلہ جو کچھ چاہتے"خدا تعالٰی ویسا ہی کردیتا اور جس چیز کی پیشین گوئی کرتے"ویسا ہی ہوتا۔آپ کے مریدوں کی ایک جماعت تجارت کےارادہ سے سمرقند کے قریب لٹیروں کی ایک جماعت ان کے لوٹنے کے واسطے آئی۔تاجروں کی جماعت نے شیخ عبداللہ کو آواز دی۔پھر انہوں نے دیکھا کہ وہ ان کے درمیان کھڑے ہیں اور کہتے ہیں"سبوح قدوس ربنا اللہ یعنی پاک ہےہمارا رب۔اے سوار وہم میں سے دور ہو جاؤ۔وہ سب تتر بتر ہوئے"کسی سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنا گھوڑا سنبھال سکے۔بعض پہاڑ کو بھاگ گئے اور بعض جنگل میں۔وہ شخص ایک دوسرے کے ساتھ مل نہ سکے۔وہ جماعت ان کی شرارت سے چھوٹ گئی۔اس کے بعد شیخ  کو اپنے  درمیان تلاش کیا۔۔۔

مزید

حضرت مولانا زین الدین ابو بکرتایبادی

حضرت مولانا زین الدین ابو بکرتایبادی علیہ الرحمۃ آپ علوم ظاہریہ میں مولانا نظام الدین شاگرد ہیں"لیکن شریعت پر عمل کرنے اور سنت کی متابعت سے علوم باطنی کے دروازے  ان پر کھل گئے۔ارباب ولایت کے حالات و مقامات عالیہ ان کو حاصل تھے۔وہ در حقیقت ایسے تھے۔روحانی تربیت شیخ السلام احمد نامقی جامی قدس اللہ تعالٰی سرہ سے پائی  تھی۔ان کی تربیت مقدسہ کی ملازمت بہت کرتےتھے۔ایسا کہتے ہیں کہ اس کے بعد مولانا نے ایک مدت تک ریاضات مجاہدات میں اشتعال کیا۔شیخ السلام احمد علیہ الرحمۃ ان پر ظاہر ہوئے اور کہا کہ خدائے تعالٰی نے تمہارے درد کا دارو شفاخانہ میں رکھا ہے۔مولانا سات سال تک پیادہ اور اکثر ننگے پاؤں تایباد سے ان کے مزار مبارک پر جایا کرتے تھے اور قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتے تھے اور جب ان کے مزار مقدس پر پہنچے تو اس گنبد میں جو کہ ان کے مقابل ہے۔قیام کرتے اورقرآن شریف کی تلاوت میں مشغول ہوتے او۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ شمس الدین محمد الکوسی الجامی

حضرت خواجہ شمس الدین محمد  الکوسی الجامی علیہ الرحمۃ     آپ حضرت شیخ الاسلام احمد حاجی نامی کے بڑے صاجزادوں میں سے ہیں،علیہ الرحمۃ اور حضرت شیخ کا خرقہ جو کہتے ہیں تو یہ وہی خرقہ ہے کہ ابو سعید ابوالخیر علیہ الرحمۃ سے ان کو پہنچا ہے اوراس کے گریبان میں ایک پیوند حضرت رسالت پناہ ﷺ کے پیرہن مبارک کا لگا ہوا موجود ہے۔تمام اولاد میں سے ان کے خاندان میں پہنچا۔آپ علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔صبح و شام ذکر جہر کے وظیفوں میں شیخ زین الدین کے طریقہ پرچلتے تھے۔شیخ بہاؤالدین عمر کی صحبت میں بہت جایا کرتے تھے۔ان سے بڑا عقیدہ رکھتے تھے۔شروع حال میں ان کو جذبہ ہوا تھا۔چنانچہ چند روز تک بے ہوش رہے تھےاور ان کی نمازیں فوت ہوگئی تھیں۔فرماتے تھے کہ اس جذبہ میں وقت کے مشائخ جیسے زین الدین خوانی،شیخ بہاؤالدین عمر میری تربیت اور اصطلاح کی غرض سے مجھ پر  ظاہر ہوئے،لیکن میں ان میں سے۔۔۔

مزید

حضرت امیرقوام الدین سنجانی

حضرت امیرقوام الدین سنجانی علیہ الرحمۃ           آپ شروع حال میں قریہ سنجان خواف کے شرکاء میں سے تھے۔ان کو جذبہ ہوا،جوکچھ اپنے ملک میں تھا۔سب سے دست بردار ہوگئےاور راہ آخرت میں مشغول ہوگئے۔کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھ کو مسلمانوں کے لیے وقف کر رکھا تھا۔جو شخص کہ کاغذ لاتا۔اس کو لکھ دیتے تھے۔خواہ قرآن شریف ہوتا یا اور کچھ یا اس شخص کا نام اس پر لکھ دیتے اور طالبوں کےدرمیان جس ترتیب سے کوئی لاتا۔اسی ترتیب سے لکھتے تھے۔مجالس میں بہت سے معارف بیان کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے مجھے سریعت کا پیالہ دیا ہے۔اس لیے میری یہ باتیں ہیں۔آپ کے بڑے اشعار ہیں۔مولانا رومی ؒ کے بعض غزلیات کا جوا ب لکھا ہے اور کتاب تصنیف کی ہے۔جس کا نام مجنون المجانین رکھا ہے۔اس میں عجیب عجیب  باتیں درج کی ہیں۔شیخ زین الدین کے ہمعصر تھےاور ان کے درمیا ن خط۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نورالدین عبدالرحمٰن مصری

حضرت شیخ نورالدین عبدالرحمٰن مصری علیہ الرحمۃ           آپ بڑے بزرگ زگرے ہیں۔اپنے وقت میں طالبین کے قبلہ تھےاور مصرکی ولایت میں اس کی تربیت و ارشاد میں متعین تھے۔شیخوخت کے مقام میں جانشین تھے۔شروع حال میں اس ملک کے شیخ کے مرید تھے۔لیکن ان کا کام اس شیخ کے سمانے پورا نہ ہوا تھا۔مگر انہوں نے کہا تھا کہ تمہارا اکم عجم کے ایک شیخ کے پاس پورا ہوگا۔آپ اس کا انتظار کرتے رہے۔یہاں تک کہ شیخ جلال الدین یوسف کو رانی مصر میں پہنچے۔ان کی صحبت میں بیس روز سے کم میں ان کا کام پورا ہوگیا۔ان کو ارشاد کی اجازت دے دی اور اجازت میں اس کو برادر لکھا۔اور دوسراشیخ نجم الدین محمود اصفہانی  کی طرف اور یہ ہر دو صاحب شیخ نور الدین عبدالصمد تظنزی کے مرید ہیں،قدس اللہ ارواحہم (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔

مزید

حضرت مکتوب شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی

حضرت مکتوب شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی علیہ الرحمۃ           تائید و توفیق کی امداد والے توحید و تحقیق کے انوار حضرت احدیث میں بظاہر اطہر اور اور باطن میں انور مولانا اعظم شیخ الاسلام اوضاع شرع کے حافظ ارباب طریق کے پیشواء حلال کے خیموں کے مقیم ۔جمال کے پردوں کے پردوں کے قوام درست کرنے والے علاؤالحق و الدین غوث  الاسلام والمسلمین پے در پے رہو اور ترقی کے درجات مدارج تخلقوا  باخلاق اللہ المتعالی میں رہو۔(یعنی خدائے برتر کے اخلاق کے عادی ہو جاؤ)مراسم دعا اور اخلاق کے پیش پہنچانے کے بعد طاہر کے یہ درویش آپ کا نام کبھی بے تعظیم نہیں لیتا،لیکن"کتاب عروہ"کو می ںنے دیکھا تو اس میں دو بحثیں اپنے اعتقاد کے مطابق نہ پائیں۔           اس کے بعد راستہ میں امیر اقبال کہتا تھا کہ شیخ علاؤ الدولہ محی الد۔۔۔

مزید

حضرت شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی

حضرت شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی علیہ الرحمۃ           آپ شیخ نور الدین عبدالصمد تظنزی کے مرید ہیں۔علوم ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔آپ کی تصنیفات بہت ہیں۔جیسے "تفسیر و تاویلات " کتاب اصطلاحات  صوفیہ شرح فصوص الحکم شرح منازل السائرین"وغیرہ۔شیخ رکن الدین علاؤالدولہ قدس  اللہ سرہ کے معاصر تھےاور ان میںوحدت وجود کے قول میں مخالفات مباحثات رہے ہیں اور اس معنی میںایک دوسرے کو خطوط لکھے ہیں۔امیر اقبال سیستانی سلطانیہ کے راہ میں شیخ کمال الدین عبدالرزاق کے ساتھ ہمراہ ہوا تھا۔ان اس بارے میں دریافت کیا توان کو اس بارے می ںپورے غلو کے ساتھ پایا۔پھر آپ نے امیر اقبال سیستانی سے پوچھا کہ تمہارا شیخ محی الدین العربی کی شان میں کی اعتقاد رکھتا ہے؟اس نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کو معرفت میں ایک مرد بڑی شان والا جانتا ہیں،لیکن فرماتے ہیں،اس مرد میں ک۔۔۔

مزید