حضرت مخدرات ابدالیہ علیہ الرحمۃ یہ تین بہنیں تھیں اتنہائی درجہ عابدہ و زاہد، جو زبان سے نکلتا، ہو کے رہتا تھا ان تینوں کے مزارات برابر برابر ٹھٹھہ کے محلہ قند سر میں واقع ہیں کہتے ہیں کہ اگر کسی کو کوئی مہم درپیش ہو تو ان کے مزار پر حاضری دے سات مرتبہ سورۃ یٰسینپڑھے اور اس کا ثواب ان کی ارواح کو بخشے انشاء اللہ بامراد ہوگا۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت مسعود علی قادری سید مفتی علیہ الرحمۃ و ۱۹۰۹ء ف ۱۳۲۷ھ/ ۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳ء رشد و ہدایت اور علم و عمل کے پیکر عظیم استاذ العلماء حضرت مفتی سید مسعود علی ابن مولوی حافظ سید احمد علی بن سید قاسم علی بن سید ہاشم علی رحمہم اللہ اجمعین سر زمین ہند کے ایسے خانوادے سے متعلق ہیں، جو علم اور عمل کے دونوں میدانوں کا شہسوار تھا، مولانا قدرت اللہ جنگ آزادی ہند کے ایک عظیم ہیرو، آپ کے اسلاف میں سے تھے۔ آپ علی گڑھ (ہند) کی ایک بستی بوڑھا گاؤں میں ۱۹۰۹ء/۱۳۲۷ھ کو پیدا ہوئے آپ کی تعلیم کی ابتدا مارہر (ہند) میں ہوئی۔ ۱۹۱۹ء میں آپ جامعہ لطیفہ علی گڑھ میں داخل ہوئے یہاں مولانا عبدالرحمٰن سے شرف تلمذ ہوا، ۱۹۲۱ء میں مدرسہ عربیہ حافظیہ سعیدیہ دادوں (علی گڑھ) میں داخل ہوئے، جہاں شی۔۔۔
مزید
حضرت مسکین شاہعلیہ الرحمۃ حضرت سید شاہ مسکین قدس سرہ بڑےپائے کے بزرگ ہیں، میرزا عیسیٰ ترخان کے دور میں ہوئے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ٹھٹھہ میں سوائے ابوالقاسم نقشبندی کے آپ کا ہم پلہ کوئی اور نہیں ہوا، آپ نے لاتعداد گم گشتہ راہ لوگوں کو منزل مراد تک پہنچایا ہے، غلہ بازار ٹھٹھہ میں آپ کا مزار ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت معروف شیخعلیہ الرحمۃ صاحب علم و عرفان تھے، شیخ الفتوح کے چچا اور شیخ طاہر یوسف کے چچا زاد بھائی تھے پاتر کے مقام پر پیدا ہوئے، صیت پور، جو بکھر اور ملتان کی سرحد پر ایک جگہ ہے، تشریف لائے یہاں کے باشندوں نے ان کی قدر کی، آتے ہی خلق خدا کی رہبری اور ہدایت کا فریضہ سنبھال لیا، عوام و خواص سب ہی مستفید ہوئے، آپ قاضی قاضن کے مصاحبوں میں سے تھے، آپ کا مزار پر انوار صیت پور میں مرجع خلائق ہے۔ (اذکار ابرار ،ص ۳۴۰) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت موسیٰ پاک شہیدعلیہ الرحمۃ و۔۹۵۲۔ف۔۱۰۰۰ھ ملتان میں سادات حسنی قادری کی بنیاد حضرت موسیٰ پاک شہید نے رکھی، آپ غوث پاک کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کے مورث اعلیٰ مخدوم محمد غوث بندگی حلب سے ہندوستان میں تشریف لائے تھے، آپ کا ارشاد ہے کہ درویش پر حصول علم لازم ہے مگر اس سے بڑھ کر اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ سید موسیٰ پاک شہید کی عظمت کے لیے اگر صرف اتنا ہی کہہ دیا جائے کہ آپ ہندوستان کے جلیل القدر محدث شاہ عبدالحق دہلوی کے مرشد تھے، توکافی ہوگا، شاہ صاحب نے جس عقیدت و ادب کا اظہار اپنے مرشد سے کیا ہے وہ اصحاب بصیرت اور طالبان حقیقت کے لیے مشغل ہدایت ہے، ایک ایسا شخص جو شریعت کے علم میں یکتائے روزگار ہوا اور جس کا فرمایا ہوا لائق استفادہ اور قابل اعتماد ہو، وہ اپنے پ۔۔۔
مزید
حضرت موسیٰ درویش علیہ الرحمۃ موسیٰ درویش بڑے صاحب کرامت بزرگ تھے، انتہائی خوش اخلاق تھے، جو حاجت مندآپ کے پاس آتا تھا اور اپنا مقصود بیان کرتا آپ اس سے عجزو نیاز کے ساتھ پیش آتے اور حصول مقصود کی امید دلاتے، اس وصف کی بناء پر آپ کو مہربان کے نام سے شہرت حاصل ہوئی، آپ مستجاب الدعوات تھے، آپ کا مزار پر انوار مکلی پر میاں شیخ عالی کے مزار کے قریب ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۹۴) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت موسیٰ لانگاہ علیہ الرحمۃ موسیٰ لانگاہ، مرزا عیسیٰ ترخان کے عہد میں قلندرانہ وضع کے ساتھ ٹھٹھہ میں وارد ہوئے، قوالی برے شوق سے سنتے تھے ، جس کو کوئی حاجت لاحق ہوتی تو قوالوں کو آپ نے پاس لے آتا جب محفل سماع گرم ہوتی تو آپ سے دعا کی درخواست کی جاتی اور آپ کی دعا مستجاب ہوجاتی تھے، آپ کا مزار فیض آثار ٹھٹھہ میں محلہ بھائی خان میں ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۱۱۱) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت مغل چاچک شیخعلیہ الرحمۃ صاحب دل اور عارف کامل تھے، ایک لحظ کے لیے بھی بستراستراحت پر نہیں لیٹے، وجد و حال کے مالک اور صاحب کشف و کرامت تھے، آپ میرزا شاہ حسن ارغون کے دور میں تھے آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے شیخ موسیٰ خلیفہ ہوئے، شیخ مغل کا مزار مکلی اور شیخ موسیٰ کا چاچک میں ہے۔ (حدیقۃ الاولیاءص۲۲۹) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت نور علی سیدغازی علیہ الرحمۃ ف ۹۳ھ۔۷۱۳ء حضرت سید نور علی شاہ غازی المعروف نور نشاہ ابن سید عبداللہ علیھما الرحمۃ آپ بڑے پائے کے ولی کامل اور صاحب تصرف ہیں۔ آپ کے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت تو میسر نہیں آسکا ہے لیکن آپ کے مزار پر جو کتبہ آویزاں ہے اس سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ آپ بحکم خلیفہ ولید بن مروان، حضرت محمد بن قاسم فاتح سندھ کے لشکر کے ساتھ مشق سے ۹۲ھ /۷۱۲ء میں سندھ تشریف لائے۔ اور راجہ داہر سے جنگ کی اور ایک سال جنگ دیبل کے بعد ۹۲ھ/ ۷۱۳ء میں بہت سے کفار کو فی النار کر کے ۵ محرم الحرام بروز جمعہ شہید ہوئے۔ آپ کے مزار پر صدہا آسیب زدہ آدمی آتے ہیں اور اللہ انہیں شفاء فرمایا ہے۔ آپ کا مزار تین ہٹی کرچی میں مرجع خلائق ہے۔ (راقم نے زیارت دربار کے وقت یہ معلومات حاصل کیں) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت محمد معین مخدوم نقشبندی ٹھٹھوی علیہ الرحمۃ ف ۱۱۶۱ھ مخدوم محمد معین بن محمد امین بن شیخ طالب ٹھٹھہ میں پیدا ہوئے، آپ کے زمانہ میں ٹھٹھہ علوم و فنون کا گہوراہ اور جلیل قدر علماء کا مرکز تھا، آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد سے حاصل کی جو اپنے عہد کے اکابر علماء میں سے تھے، پھر شاہ عنایت سے دینی علوم کی مزید کتب پڑھی، شیخ محی الدین ابن العربی کی مشہور زمانہ کتاب فصوص الحکم آپ نے علم رضا درویش سے پڑھی، حدیث کی تعلیم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سے حاصل کی، علاوہ ازیں حضرت شاہ ولی اللہ، شیخ جلال محمد اور علامہ میر سعد اللہ پوربی سے بھی آپ نے استفادہ کیا۔ علوم دینیہ کی تکمیل کے بعد آپ نے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شیخ سیف الدین س۔۔۔
مزید