۔ان کا صحابی ہونابیان کیاجاتاہے۔ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ان سے ابوصادق نے روایت کی ہےاورانھوں نے کہاہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھےاوراصحاب صفہ میں تھےیہی ہیں جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی تھی کہ یااللہ ان کی خریدوفروخت میں برکت عنایت فرما۔یہ کہتےہیں کہ میرےدل میں حضرت علی کے کاموں کی طرف سے کچھ شک تھا۔ ایک روز میں حضرت علی کے ساتھ فرات کے کنارہ گیاتووہ راستہ سے ہٹ کرایک مقام پر کھڑے ہوگئے اورہم لوگ بھی ان کے گرد کھڑے ہوگئے انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا کہ یہ مقام ان لوگوں کی فرودگاہ ہے اوران کاخون یہاں گرایاجائے گا جن کا کوئی مددگار نہ زمین میں ہوگانہ آسمان میں سوا اللہ کے۔پس جب حسین شہید ہوئے تومیں گیاجب اس مقام پر پہنچاتودیکھا کہ یہ وہی مقام ہے جس کی بابت حضرت علی نے ہم سے کہاتھاپس میں نے توبہ کی ان خیالات سے جو مجھےحضرت علی کی طرف سے تھےا۔۔۔
مزید
۔کنانی۔ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ اگریہ غالب بن عبداللہ کنانی نہیں ہیں توکوئی اورہیں۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایاہے۱؎ماافاءاللہ علیٰ رسولہ من اہل القری فللہ وللرسولاس میں قری سے مراد قبیلۂ قریظ اورنضیر اور خیبراور فدک اورعرینہ کی بستیاں ہیں۔قریضہ اورنضیر تو مدینہ ہی میں ہیں اورفدک مدینہ سے تین میل ہے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجاجس پرغالب بن فضالہ نامی ایک شخص قبیلہ بنی کنانہ کے سردارتھےان لوگوں نے مقامات مذکورہ کو بزورفتح کیا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ ترجمہ۔جوکچھ فی دلائے اللہ بستیوں کے رہنے والوں سے تووہ اللہ کے لیے ہےاوراس رسول کے لیے۱۲۔ میں کہتاہوں کہ کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ غالب وہی غالب بن عبداللہ لیثی ہوں کیونکہ ابن کلبی نے بیان کیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے غالب بن عبداللہ کوبنی مرہ کی طرف مقام فدک میں۔۔۔
مزید
بن مسعربن جعفربن کلب بن عوف بن کعب بن عامربن لیث بن بکیربن عبدمناہ بن کنانہ ۔کنانی لیثی۔ابن کلبی نےان کا نسب بیان کرکےکہاہے کہ بعض لوگوں نےان کا نام غالب بن عبیداللہ لیثی بیان کیاہےشماران کااہل حجاز میں ہے۔ابوعمرنے کہاہے کہ بعض لوگ ان کو کلبی کہتے ہیں مگرصحیح یہ ہےکہ غالب بن عبیداللہ لیثی ہیں۔ان کو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال میں بھیجاتھاتاکہ مکہ جانے کاآسان راستہ تجویز کردیں نیزایک مرتبہ ان کو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ساٹھ سواروں پر سرداربناکرقبیلہ بنی ملوح کی طرف بھیجاتھاجوایک شاخ قبیلہ یعمرشداخ کی ہےیہ لوگ مقام کدیہ میں رہتےتھےاورحضرت نے ان کوحکم دیاتھاکہ ان لوگوں کوجاکرلوٹ لینا چنانچہ جب یہ مقام قدیدمیں پہنچے توحارث بن مالک بن برصاءلیثی ان کو ملےسب مسلمانوں نے ان کو گرفتارکرلیاحارث نے کہامیں تومسلمان ہوکرآیاہوں غالب نے کہا کہ اگرتم سچے ہو تو ایک شب گرف۔۔۔
مزید
۔یہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے طلیحہ سے جدائی اختیارکی تھی اوراسلام پر قائم رہے تھے جبکہ طلیحہ نےبعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت کا دعوی کیاتھا۔یہ ابن اسحاق کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔مزنی۔بعض لوگ ان کوغالب بن دیخ مزنی کہتےہیں شایدیہ ان کے داداہیں۔ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ان سے عبداللہ بن مغفل نے روایت کی ہے اس کوشریک نے منصورسے انھوں نے عبیدبن حسن بن ابی الحسن بصری سےانھوں نے عبداللہ بن مغفل سے انھوں نے غالب بن دیخ سے پالے ہوئےگدھوں کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ میں نے ان گدھوں کاگوشت تمھارے لیے مکروہ کیاہے جوبستی کے قریب رہتےہوں۔اورشعبہ نے اورمسعر نے ان کا نام غالب بن ابجرکابیان کیاہے۔ہمیں عبدالوہاب بن ابی منصور بن سکینہ نے اپنی سند کے ساتھ سلیمان بن اشعث سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سے عبداللہ بن ابی زیاد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبیداللہ نے اسرائیل سے انھوں نے منصوربن عبیدبن ابی الحسن بصری سے انھوں نے عبدالرحمن سے انھوں نے غالب بن ابجر سے روایت کرکے بیان کیاکہ ایک مرتبہ قحط پڑا اورمیرے پاس کچھ نہ تھاجومیں اپنے گھروالوں کوکھ۔۔۔
مزید
بن عمروبن قرط بن خباب تمیمی عنبری۔صحابی ہیں۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات کی تحصیل پرمقررکیاتھا۔یہ ابن کلبی کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مرانی ۔صحابہ میں سے ہیں غزوۂ موتہ میں اوراس کے بعدکے غزوات میں شریک تھے ابن معدان نے اس کو ذکرکیاہےیہ ابن ماکولاکاقول تھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن حذیفہ بن بدربن عمروبن جویریہ بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن فزارہ بن ذبیان بن بغیض بن ریث بن غطفان بن سعد بن قیس غیلان فزاری۔کنیت ان کی ابومالک ہے۔بعد فتح مکہ کے اسلام لائے تھےاوربقول بعض قبل فتح مکہ کے اسلام لائےتھےاورفتح مکہ میں شریک تھے اورحنین و طائف میں بھی شریک تھے۔مولفتہ القلوب میں سے تھےاوربدتہذیب اعراب میں سے تھےیعنی بدوی لوگ جیسے غیرمہذب اورناتعلیم یافتہ ہوتے ہیں ویسے ہی یہ بھی تھے۔بیان کیاگیاہےکہ یہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بغیراجازت طلب کیے چلے گئے تھے توحضرت نے پوچھاکہ تم نے اجازت کیوں نہیں طلب کی انھوں نے کہاکہ میں نے قبیلۂ مضرکے کسی شخص سے کبھی اجازت طلب نہیں کی۔یہ ان لوگوں میں سے تھے جومرتدہوکرطلیحہ اسدی کے تابع ہوگئےتھے اور اس کی طرف سے لڑتےتھےانھیں لڑائیوں میں یہ قید ہوکرحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئےمدینہ کے بچہ ان کودیکھ کرکہاکرت۔۔۔
مزید
۔ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر کی غنیمت سے دوسووسق دیے تھے۔ان کا تذکرہ ابوجعفرمستغفری نے ابن اسحاق سے نقل کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔اوربعض لوگ ان کوابن معقل کہتےہیں۔ان سے زیاد بن علاقہ نے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک لڑکے کو جس کانام حازم تھالے کرگیا آپ نے اس کانام عبدالرحمن رکھا۔ابواحمد عسکری نے کہاہے کہ لوگ اس حدیث کو مسندکہتےہیں مگریہ غلط ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید