جمعرات , 11 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 22 October,2026

حضرت شیخ عیسیٰ بن ہتار

حضرت شیخ عیسیٰ بن ہتار علیہ الرحمۃ           امام یافعی رحمت اللہ کہتے ہیں۔آپ کا ایک دن فاحشہ عورت کے پاس گئےاور اس سے کہا،عشاء کے بعد میں تمہارے پاس آؤں گا۔وہ خوش ہوگئی اور اپنا بناؤ سنگار کیا۔عشاء کے بعد آپ اس کے پاس آئے اور اس کے گھر میں دو رکعت  نماز پڑھی اور باہر نکل آئے۔اس عورت کا حال بدل گیا اور توبہ کی۔جو کچھ اس کے پا س مال اسباب تھا۔سب سے علیحدہ ہوگئی ہے۔شیخ مئ اس عقد ایک درویش کے ساتھ کردیااور کہا کہ ولیمہ کے کھانے کے لیے عصیدہ (اس قسم کا حلوا)بناؤ اور روغن نہ خریدو۔وہ فاحشہ جس امیر کی دوست تھی۔اس کو لوگوں  نے خبر کی۔اس نے تعجب کیا۔لوگوں نے کہا کہ اس کا ایک درویش سے نکاح کردیا ہےاور ولیمہ کا کھانا حلوا بنایا ہے،مگر بھی ان کے پاس نہیں۔امیر نے ہنسی سے شراب کے دو شیشہ بھیجے کہ ان کو شیخ کے پاس لے جاؤاور کہو کہ ہم اس کام سے ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ موسی سورانی

حضرت شیخ موسیٰ سورانی رحمتہ اللہ علیہ آپ شیخ ابو مدین مغربی علیہ الرحمۃ کے اکابر مریدوں میں سے ہیں۔شیخ سعید الدین مرغانی شرح قصیدہ تائیہ میں لکھتے ہیں کہ میں نے شیخ مغیر  طلحہ بن عبد اللہ بن طلحہ تستری عراقی رحمتہ اللہ سے ۶۶۵ھ میں سنا تھا کہ انہوں نے شیخ عماد الدین محمد بن شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمۃ سے سنا کہ وہ یوں فرماتے تھے۔میں ایک حج میں اپنے والد کے ساتھ تھا۔ایسے وقت میں کہ میں خانہ کعبہ کا طواف کرتا تھا۔اتفاقاً دیکھا کہ شیخ مغربی طواف کر رہے ہیں اور لوگ ان سے تبرک حاصل کرتے ہیں اور ان کی زیارت کرتے ہیں۔لوگوں نے میری نسبت ان سے کہا یہ شیخ شہاب الدین کے صاجزادہ ہیں۔مجھ کو مرحبا کہا اور میرے سر کو بوسہ دیااور دعائے خیر کہی۔ان کی دعا کی برکت کے نشان اپنے میں پاتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آخرت میں اس کی برکت بھی میرے ہمراہ ہوگی۔تب میں نےپوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں،لوگوں۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سعد الدین الفرغانی

حضرت شیخ سعد الدین الفرغانی علیہ الرحمۃ           آپ اہل معرفت میں بڑے کامل اور اصحاب ذوق ودجدان میں بزرگ گذرے ہیں۔کسی شخص نے علم حقیقت کے مسائل کو ضبط و ربط کے ساتھ ان جیسا جو انہوں نے"شرح قصیدہ تائیہ فارفیہ" کے دیباچہ میں بیان کیا ہے"نہیں کیا۔پہلے اس کی فارسی عبادت میں شرح کی اور اپنے شیخ شیخ صدر الدین قونیوی کی خدمت میں پیش کی۔شیخ نے اس کو بہت بہت پسند کیا اور اس بارہ میں کچھ لکھا۔شیخ سعد الدین نے اس تحریر کو بعینہ تبرک و تیمن کے طور پر اپنی شرح فارسی کے دیباچہ میں درج کیا ہے اور دوبارہ اس کی تعلیم اور فائدہ کے پورا کرنے کے لیے اس کو عربی عبارت میں کردیا ہے اور نئے فائدے اس پر بڑھائے  ہیں۔جزی اللہ عن الطالبین خیر الجزاء خدا ان کو طالبین کی طرف سے  نیک جزا دے۔ان کی اور تصنیفات بھی ہیں۔جس کا نام"مناہج العبادالی المعاد مذاہب آئمہ اربعہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ موید الدین جندی

حضرت شیخ موید الدین جندی رحمتہ اللہ علیہ           آپ شیخ صدر الدین کے شاگردوں اور مریدوں میں سے ہیں۔علوم ظاہری و باطنی کے جامع ہیں۔شیخ بزرگ کی بعض تصانیف جسے "فصوص الحکم"،"مواقع النجوم " کو شرح کیا ہےاور فصوص کی تمام شرحوں کا ماخذ انہی کی شرح ہے۔اس میں بہت سی تحقیقات ہیں کہ جو باقی کتب میں نہیں۔ان کا کمال اس شرح سے معلوم ہوسکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ شیخ صدر الدین علیہ الرحمۃ کے فصوص کے خطبہ کو میرے لیے شرح کیا ہے۔اس کے اثنا میں غیبی حالات وارد ہوئےاور اس کے اثر نے میرے ظاہر و باطن کو گھیر لیا۔اس وقت مجھ میں عجیب تصرف کیا اور کتاب کے مضمون کو پورے طور پر خطبہ کی شرح میں مجھ کو سمجھا دیا اور جب اس مطلب کو مجھ سے معلوم کرلیا تو کہا، میں نے بھی حضرت شیخ سے درخواست کی تھی کہ کتاب فصوص کو میرے لیے شرح کرے۔انہوں اس کے خطبہ کی شرح کی تھی اور اسکے اثنا ۔۔۔

مزید

حضرت ابراہیم بن معصاد الجعبری

حضرت ابراہیم بن معصاد الجعبری علیہ الرحمۃ آپ کی کنیت ابو اسحق ہے۔صاحب آیات ظاہرہ اور مقامقت فاخرہ تھے۔آپ کا مذہب محو کلی اور نفی وجود  افلاس و ناداشت کا تھا۔شیخ عبدالقادر گیلانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔           انابلبل الافصاخ املاء دوحھا      طر باوفی العلیاء بازا شھب           یعنی میں خوش بیاں ایک بلبل ہوں کہ جو درخت کو خوشی  سے بھر لیتی ہے اور بڑوں میں سفید باز ہوں اور شیخ ابراہیم نے اس کے مقابلہ میں (کسر نفسی سے)یہ کہا ہے۔           اناصر دالمر حاض املا بیرہ        نتنا وفی البیداء کلب اخرب           یعنی میں پاخانہ کی چڑیاں ہوں ۔جو غسل ۔۔۔

مزید

حضرت ابن الفارض الحموی المصری

حضرت ابن الفارض الحموی المصری علیہ الرحمۃ         آپ کی کنیت ابو حفص ہے اور نام عمر ہے۔آپ بنی سعد کے قبیلہ سے ہیں جو کہ قبیلہ حلیمہ کا ہے،جو کہ رسولﷺ کی دائی کا تھا۔حموی الاصل ہیں،اور مصر کی پیدائش ہےآپ کے والد مصر کے بڑے علماء میں سے تھے۔آپ کے فرزند سیدی کمال الدین محمدی کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں شروع مین اپنے والد سے سیر اور تنہا رہنے کی اجازت مصر کے جنگلوں اور پہاڑوں میں پھرا کرتا تھا۔ایک رات دن کے بعد والد کی خاطر کی وجہ سے والد کے پاس والس آیا کرتاتھا۔جب باپ نے وفات پائی تو پھر میں بالکل سیر و سیاحت و تنہا رہنے کے لیے سلوک طریقت کی طرف ہوگیا۔لیکن مجھ پر اس طریق کی کوئی چیز نہ کھلی۔یہاں تک کہ ایک دن میں نے چاہا کہ مصر کے کسی مدرسہ میں جاؤں۔میں نے دیکھا کہ مدرسہ کے دروازہ پر ایک پیر بقال ہے جو وضو کرتا ہےلیکن شریعت کی ترتیب پر نہیں کرتا۔۔۔۔

مزید

حضرت ابواسحق بن ظریف

حضرت ابواسحق بن ظریف علیہ الرحمۃ         آپ شیخ محی الدین ابن عربی کے مشائخ سے ہیں۔وہ فتوحات میں لکھتے ہیں کہ وہ ان بڑے مشائخ میں سے ہیں،جن کو میں نے دیکھا۔ان سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے،جو لوگ کہ مجھ کو پہچانتے ہیں،وہ سب اولیاءہیں۔لوگوں نے کہا،اے ابااسحق یہ بات کیا ہے؟فرمایا کہ کوئی ان میں سے دو حال سے خالی نہیں یا یہ کہ میرے حق میں خیرونیکی کہتا ہے یا اس کے سوا برائی کرتا ہے،اگر وہ میرے حق میں اچھا کہتا ہے تو میری وہی صفت کرتا ہے۔جو خود اس کی ہے۔کیونکہ اگر وہ سفت و مرتبہ پر نہ ہوتاتو میری ایسی صفت نہ کرتا۔پس یہ شخص میرے نزدیک خدا کا مربی ہےاور اگر میرے حق میں برائی کہتا ہےتو وہ صاحب عقل و کشف ہےکہ خدائے تعالیٰ نے اس کو میرے حال پر مطلع کردیا ہے۔اب یہ شخص بھی اولیاء اللہ میں سے ہے۔فتوحات میں بھی لکھا ہے،سمعت شیخنا اباعمران موسی بن عمران  ال۔۔۔

مزید

حضرت ابوالحسن علی بن حمید الصعید المعروف بابن الصباغ

حضرت ابوالحسن علی بن حمید الصعید المعروف بابن الصباغ علیہ الرحمۃ         آپ صاحب احوال بلند اور مقامات ارجمند تھے۔بہت سی کرامات اور بہت سے خارق عادات ان سے ظاہر ہوئےتھے۔آپ کے والد رنگریز تھے۔چاہتے تھے کہ ان کا بھی بیٹا رنگریز ہو،لیکن آپ کو یہ بات گراں گزرتی تھی۔کیونکہ صوفیوں کی صحبت میں جاتے تھےاور ان کا طریق اختیار کرتے تھے۔رنگنے سے باز رہتے تھے۔ایک دن ان کا باپ آیا۔دیکھا کہ لوگوں کے کپڑوں کو نہیں رنگااور وقت گزر چکا ہے۔وہ غصے ہوگیا۔دکان میں مٹکے بہت تھے اور ہر ایک میں اور ہی قسم کا رنگ تھا۔جب باپ کے غصہ کو دیکھا تو سب کپڑوں کو لے کر ایک ہی مٹکے میں ڈال دیا۔تب تو باپ کا غصہ اور بھی بھڑک اٹھا اور کہا کہ دیکھا تم نے کیا کیا۔لوگوں کے کپڑوں کو خراب کردیا۔ہر ایک شخص ایک ایک رنگ چاہتا تھا۔تم نے سب کو ایک ہی رنگ میں ڈال دیا۔ابوالحسن نے اس مٹکے میں ہاتھ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ جاگیر

حضرت شیخ جاگیر علیہ الرحمۃ         شیخ ابو الوفا نے آپ کی تعریف کی ہےاور اپنی ٹوپی شیخ علی ہئیتی کے ہاتھ ان کو بھیجی ہے اور ان کو آنے کی تکلیف نہ دی۔وہ فرماتے ہیں کہ میں نے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی ہے کہ جاگیر کو میرے مریدوں بنادے۔خدائے تعالیٰ نے اس کو مجھے دیددیاہے۔شیخ جاگیر دراصل گردان کے تھے۔عراق کے ایک جنگل میں جاکرکروزہ سامرہ میں متوطن ہوئے۔وہیں رہتے تھے۔یہاں تک ۵۹۰ھ ہجری میں دنیا سے رحلت کر گئے۔آپ کی قبر بھی وہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں۔من شاھد الحق عزوجل فی سرہ سقط الکون من قبلہ یعنی جو حق عزوجل کا مشاہدہ باطن میں کرلیتا ہےتو اس کے دل سے موجودات گرجاتے ہیں۔وہ یہ فرماتے ہیں کہ مااخذت العھد علی احد حتی رایت اسمہ مرقوما فی اللوح المحفوظ من جملہ مریدی وقال الینا اوتیت سیفا ماضی الحد احد طرفیہ بالمشرق والاخر بالمغرب لواثمیر بہ الی لجبال الشوامخ لھوت یعنی۔۔۔

مزید

حضرت حیوۃ بن قیس الحرانی

حضرت حیوۃ بن قیس الحرانی علیہ الرحمۃ         صاحب الکرامات الخارقۃ والانفاس الصادقۃ والاحوال الفاخرۃ والانوار الباھرۃ والمقامات العالیہ والمناقب السامیہ یعنی آپ کرامات خارقہ،انفاس صادقہ،احوال فاخرہ،روشن انوار،بلند مقامات تھے۔آپ ان چار شخصوں میں سے ہیں کہ شیخ ابوالحسن قریشی نے کہا ہےکہ میں نے چار ولیوں کو دیکھا ہےکہ اپنی قبروں میں تصرف کرتے ہیں۔معروف کرخی،شیخ بعدالقادر گیلانی، شیخ عقیل منیجی،شیخ حیوۃ حرانی قدس اللہ تعالی اسرار ہم۔ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں یمن سے دریا میں بیٹھا۔جب ہم دریا ہند میں پہنچے تو مخالف ہوا چلی اور بڑی موج پیدا ہوئی۔کشتی ٹوٹ گئی۔میں ایک تختہ پر رہ گیا۔موج نے مجھ کو ایک جزیرہ پر ڈال دیا۔تب میں اس میں پھرا۔میں نے وہاں کسی کو نہ دیکھا۔بڑا جنگل تھا۔اتفاقاً وہاں ایک مسجد میں پہنچا جس میں چار شخص بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے ان کو سلام کہا۔ان۔۔۔

مزید