ہفتہ , 12 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 31 January,2026


منقبت   (235)





رِضائے غوث احمد کی رِضا ہے

رِضائے غوث احمد کی رِضا ہےرضا احمد کی مرضی ِخدا ہے کمالات و علوم مصطفیٰ سےشہ جیلاں تجھے حصہ ملا ہے تو آئینہ جمال مصطفیٰ کاتو حق گو حق شناس و حق نماہے جناب مصطفیٰ ظل خدا ہیںتو ظل مصطفیٰ نور خدا ہے ترے ہم ہوچکے تو ہے ہماراخداکا تو ہے اور تیرا خدا ہے جو منکر ہے ترا وہ حق کا منکرجو بندہ ہےترا عبدِ خدا ہے ترا منگتا ہے مقبول الہٰیترے منکر پہ قہر کبریا ہے محی الدین نہ کیوں ہو نام تیراکہ تو نے دین حق زندہ کیا ہے کوئی بغداد والے سے یہ کہہ دےکہ وقت اسلام پر آکر پڑا ہے کوئی ہو اس طرف رحمت کا پھیراکہ بندہ راہ تیری تک رہا ہے کدھر ہو قادری دولھا کدھر ہویہ ہر مجرم کے لب پر التجا ہے شرف کس سے بیاں ہو تیرے سر کاولی کا تاج تیرا نقش ِپاہے قدتیرا لیا ہے جس نے سرپروہ بے شبہہ ولی ِباخدا ہے نہ کیوں ہوں ہند کے سلطان خواجہکہ آنکھوں پر قدم تیرا لیا ہے ولی کہتے ہیں جن کو ہیں رعیتشہ بغداد شاہِ اولیا ہ۔۔۔

مزید

بس قلب وہ آباد ہے

بس قلب وہ آباد ہے جس میں تمہاری یاد ہےجو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے رنج و الم میں مبتلا وہ ہے جو تجھ سے پھر گیابے فکر وہ غم سے رہا جس دل میں تیری یا دہے اے بندگان محی دیں دل سے ذرا فریاد ہوبغداد کا فریا درس تو برسرِ امداد ہے محبوب سبحانی ہوتم مقبول ربّانی ہوتمبندہ تمہارا جو ہوا وہ نار سے آزادہے ہوں نام لیوا آپ کا عاصی سہی مجرم سہیمجھ پُر خطا کے واسطے سہر کا کیا ارشاد ہے بغدادکی گلیوں میں ہوآقامیرالاشہ پڑاٹھوکرلگاکرتم کہویہ بندہ آزادہے کیوں پوچھتے ہو قبر میں مجھ سے فرشتوں دم بدملو دل کے اندر دیکھ لو غوث الوریٰ کی یاد ہے جب روبرو قہار کے دفتر کھلیں اعمال کےکہنا خدائے پاک سے یہ بندۂ آزاد ہے مشکل پڑی جو سامنے آئی ندا بغداد سےمیں ہوں حمایت پر تری بندے تو کیوں ناشاد ہے افکار میں ہوں مبتلا کوئی نہیں تیرے سوایا عبدقادر محی دیں فریاد ہے فریاد ہے اُٹھ بیٹھ گنبد سے ذرا چمکا دے بختِ۔۔۔

مزید

آ بروئے مومناں احمد رضا خاں قادری

آ بروئے مومناں احمد رضا خاں قادریرہنمائے گمرہاں احمد رضا خاں قادری علم میں بحر رواں احمد رضا خاں قادریدین میں گوہرفشاں احمد رضا خاں قادری علم کے ہیں گلستاں احمد رضا خاں قادریباغ دیں کے گل فشاں احمد رضا خاں قادری حق شناس و حق نما و نائب ِشمس ُالضحیٰوارثِ پیغمبراں احمد رضا خاں قادری باغ دیں میں نغمہ خوان و خوش بیاں شیریں زباںطوطیِ شکرِ فِشاں احمد رضا خاں قادری چشم ِایماں سے اگر دیکھو تو ہیں ایمان کی جاںجان جاں روح ِرواں احمد رضا خاں قادری تیرا علم وفضل و شان و شوکت و جاہ و حشمشش جہت پر ہی عیاں احمد رضا خاں قادری ہے عرب کے عالموں کا مدح خواں ساراجہاںاور وہ تیری مدح خواں احمد رضا خاں قادری تم سے گلزار شرعیت میں کھلے خوش رنگ پھولباغ دیں میں گلفشاں احمد رضا خاں قادری روز افزوں حشر تک یا رب ترقی پر رہےلہلہا تابوستاں احمد رضا خاں قادری صدقۂ شاہِ عرب یو ماً فیوماً ہو بلندتیری عزت کا نِ۔۔۔

مزید

طبیعت آج کیوں ایسی رساہے

طبیعت آج کیوں ایسی رساہےکہ خود اپنی زباں پرمرحباہے صباکیوں اس قدر اِترا رہی ہےچمن میں کونساغنچہ کِھلاہے عنادل گارہےہیں کیوں ترانےیہ کیساشادہرشاہ و گداہے یہ کیسےشادیانےبج رہےہیںیہ کیوں باب مسرت آج ہواہے تحُّیرجب بڑھاہاتف پکارارضائےقادری دولھابناہے براتی ہیں تمامی اہلسنترضائےقادری دولھابناہے توکل کےشجرمیں پھل یہ آیاکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے ترانےگارہی ہیں قمریاں آجکہ عبدالمصطفٰے،دولھابناہے امیدوں کےکھلےہیں آج غنچےکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے بریلی کانصیبہ جگ مگایاکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے براتی آرہےہیں وجدکرتےکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے یہ دیکھوصدقۂ صدیقِ اکبرکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے یہ ہےفاروقِ اعظم کی کرامتکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے کرم عثمان ذالنّورین کاہےکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے سخاوت ہےعلی مرتضٰی کیکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے گھٹابغدادسےاٹھی کرم کیکہ عبدالمصطفٰےدولھابناہے یہ ہےبغدا۔۔۔

مزید

کیسے کاٹوں رتیاں صابر

منقبت حضور پر نور سیدنا علا ء الملت والدین علی احمد صابر کلیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیسے کاٹوں رتیاں صابرتارے گنت ہوں سیّاں صابر مورے کر جوا ہوک اٹھت ہےموکو لگالے چھتیاں صابر توری صورتیا پیاری پیاریاچھی اچھی بتیاں صابر چیری کو اپنے چرنوں لگالےمیں پروں تورے پیّاں صابر ڈولے نیّا موری بھنور میںبلما پکڑے بیّاں صابر چھتیاں لاگن کیسے کہوں میںتم ہو اونچے اٹریاں صابر تورے دوارے سیس نواؤںتیری لے لوں بلیّاں صابر سپنے ہی میں درشن دکھلادوموکو مورے گسیّاں صابر تن، من، دھن سب تو پہ وارےنورؔی مورے سیّاں صابر سامانِ بخشش۔۔۔

مزید

تجلی نور قِدَم غوث اعظم

کرو ہم پہ یٰسٓ دم غوث اعظم تجلی نور قِدَم غوث اعظمضیائے سراج الظلم غوث اعظم ترا حِل ہے تیرا حرم غوث اعظمعرب تیرا تیرا عجم غوث اعظم کرم آپ کا ہے اعم غوث اعظمعنایت تمہاری اتم غوث اعظم مخالف ہوں گو سو پَدم غوث اعظمہمیں کچھ نہیں اس کا غم غوث اعظم چلا ایسی تیغ دو دم غوث اعظمکہ اعدا کے سر ہوں قلم غوث اعظم وہ اک وار کا بھی نہ ہوگا تمہارےکہاں ہے مخالف میں دم غوث اعظم ترے ہوتے ہم پر ستم ڈھائیں دشمنستم ہے ستم ہے ستم غوث اعظم کہاں تک سنیں ہم مخالف کے طعنےکہاں تک سہیں ہم ستم غوث اعظم بڑھے حوصلے دشمنوں کے گھٹا دےذرا لے لے تیغ دو دم غوث اعظم نہیں لاتا خاطر میں شاہوں کو شاہاترا بندۂ بے درم غوث اعظم کرم چاہئے تیرا تیرے خدا کاکرم غوث اعظم کرم غوث اعظم گھٹا حوصلہ غم کی کالی گھٹا کابڑھی ہے گھٹا دم بدم غوث اعظم بڑھا نا خدا سر سے پانی الم کاخبر لیجئے ڈوبے ہم غوث اعظم کرو پانی غم کو بہادو الم کو۔۔۔

مزید

کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظم

ترے گھر سے دنیا غوث اعظم کھلا میرے دل کی کلی غوث اعظممٹا قلب کے بے کلی غوث اعظم مرے چاند میں صدقے آجا ادھر بھیچمک اٹھے دل کی گلی غوث ترے رب نے مالک کیا تیرے جد کوترے گھر سے دنیا پلی غوث اعظم وہ ہے کون ایسا نہیں جس نے پایاترے در پہ دنیا ڈھلی غوث اعظم کہا جس نے یا غوث اغثنی تو دم میںہر آئی مصیبت ٹلی غوث اعظم نہیں کوئی بھی ایسا فریادی آقاخبر جس کی تم نے نہ لی غوث اعظم مری روزی مجھ کو عطا کردے آقاترے در سے دنیا نے لی غوث اعظم نہ مانگوں میں تم سے تو پھر کس سے مانگوںکہیں اور بھی ہے چلی غوث اعظم صداگر یہاں میں نہ دوں تو کہاں دوںکوئی اور بھی ہے گلی غوث اعظم جو قسمت ہو میری بری اچھی کر دےجو عادت ہو بد کر بھلی غوث اعظم ترا مرتبہ اعلیٰ کیوں ہو نہ مولیٰتو ہے ابن مولیٰ علی غوث اعظم قدم گردن اولیا پر ہے تیراہے تو رب کا ایسا ولی غوث اعظم جو ڈوبی تھی کشتی وہ دم میں نکالیتجھے ایسی قدرت ملی غ۔۔۔

مزید

ترا جلوہ نور خدا غوث اعظم

آئینۂ حق نما درِ منقبت حضور پر نور پیران پیر دستگیر غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ترا جلوہ نور خدا غوث اعظمترا چہرہ ایماں فزا غوث اعظم مجھے بے گماں دے گما غوث اعظمنہ پاؤں میں اپنا پتا غوث اعظم خودی کو مٹا دے خدا سے ملا دےدے ایسی فنا و بقا غوث اعظم خودی کو گماؤں تو میں حق کو پاؤںمجھے جام عرفاں پلا غوث اعظم خدا ساز آئینۂ حق نما ہےترا چہرۂ پر ضیا غوث اعظم خدا تو نہیں ہے مگر تو خدا سےجدا بھی نہیں ہے ذرا غوث اعظم نہ تو خود خدا ہے نہ حق سے جدا ہےخدا کی ہے تو شان یا غوث اعظم تو باغ علی کا ہے وہ پھول جس سےدماغ جہاں بس گیا غوث اعظم ترا مرتبہ کیوں نہ اعلیٰ ہو مولیٰہے محبوب رب العلا غوث اعظم ترا رتبہ اللہ اکبر سروں پرقدم اولیا نے لیا غوث اعظم ترا دامن پاک تھا مے جو رہزنبنے ہادی و رہنما غوث اعظم نہ کیوں مہرباں ہو غلاموں پہ اپنےکرم کی ہے تو کان یا غوث اعظم ترے صدقہ جاؤں مری لاج رکھ لےترے۔۔۔

مزید

المدد غوث اعظم سلام علیک

سیّدی غوث اعظم، سلامٌ علیک میرے آقائے اکرم، سلامٌ علیک نام ہے عبد قادر، لقب محئ دین حق کے ہیں سرّاعظم، سلامٌ علیک گردنیں اولیاء کی ہیں تیرا قدم اے ولئ معظم، سلامٌ علیک آپ کے پاک دامن سے جو بندھا آخرت سے ہے بے غم، سلامٌ علیک آپ کو جس نے اپنا وسیلہ کیا آپ ہیں اُس کے ہم دم، سلامٌ علیک اپنی قدرت سے بگڑی بنا دیجئے اے محئ مکرم، سلامٌ علیک آپ ہی درد کا میرے درمان ہیں رکھئے زخموں پہ مرہم، سلامٌ علیک ہم بھلے ہیں بُرے ہیں تمہارے ہی ہیں کس کے در جائیں اب ہم، سلامٌ علیک ہم غلاموں کی اب لاج رکھ لیجئے آج دنیا ہے برہم، سلامٌ علیک شئً لِلّٰہ یاعبدِ قادر مدد! ہے مِرا وردِ پیہم، سلامٌ علیک ہم پہ ہر سمت سے ہے ہجومِ الَم المدد غوثِ اعظم، سلامٌ علیک اپنے بُرہانؔ کو یا غوث کر دیجئے مستقل اور محکم، سلامٌ علیک۔۔۔

مزید

ہدیہ سلام بحضور بارگاہ غوث اعظم سرکار

غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک آپ محبوب خدا ہیں، جانشینِ مصطفیٰ ہیں آپ ابنِ مرتضیٰ ہیں، اور امامِ اصفیاء ہیں غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک آپ قطبِ اولیاء ہیں، آپ غوث التقیا ہیں صاحبِ صدق و صفا ہیں، مرجعِ شاہ و گدا ہیں غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک آپ سب کے مقتدا ہیں، آپ سب کے رہنما ہیں آپ سب کے پیشوا ہیں، آپ تاجِ اولیاء ہیں غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک مالکِ ملک ولایت، صاحبِ کشف و کرامت رہبرِ راہِ ہدایت، کاشفِ اسرار قدرت غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک سالکِ راہِ شریعت، واقفِ رازِ طریقت گوہرِ بحرِ حقیقت، مظہرِ سرِّ نبوت غوثنا سلام علیک، قطبنا سلام علیک شیخنا سلام علیک، محئ دیں سلام علیک آپ کے۔۔۔

مزید

سلام بحضور بارگاہِ غوث الاعظم

سیدی غوث اعظم، سلامٌ علیکمُرشد و شیخ عالم، سلامٌ علیک نور فیض عالم، سلامٌ علیک میرے آقائے اکرم، سلامٌ علیک سرورِ اولیاء، سرِّ حق کے امیں ظلِّ شاہِ ہدٰی، رُوحِ صدق و یقیں نام ہے عبد قادر، لقب محئ دیں حق کے اے سِّ اعظم، سلامٌ علیک ہے تِری پشت پر دستِ شاہِ اُمم اور تِرے ہاتھ میں غوثیت کا الَم گردنیں اولیاء کی ہیں زیرِ قدم اے ولئ معظم، سلامٌ علیک دامنِ پاک سے آپ کے جو بندھ گیا جو با خلاصِ دل آپ کا ہو گیا اسمِ عالی کا جس نے وظیفہ کیا آخرت سے ہے بے غم، سلامٌ علیک آپ کو جس نے اپنا وسیلہ کیا آپ سے جس نے کی عرض سیّدا! آپ سے جو بھی طالب مدد کا ہو آپ ہیں اُس کے ہم دم، سلامٌ علیک اپنی عظمت کا صدقہ عطا کیجئے آپ کا بھلا، ہاں بھلا کیجئے اپنی قدرت سے بگڑی بنا دیجئے اے محئ مکرّم، سلامٌ علیک چارسُو فکر اور غم کے سامان ہیں اور غلام آپ کے سب پریشان ہیں آپ ہی سارے دردو ں کا درمان ہیں رکھئے زخموں۔۔۔

مزید

منقبت خواجہ غریب نواز

سرکار کرم کے صدقہ میں خواجہ کا روضہ دیکھ لیا خواجہ کی غریب نوازی کا دربار میں نقشہ دیکھ لیا سرکار میں جھولی پھیلا کر، مانگوں تو کیا کچھ پاؤ گے اللہ کے فضل و رحمت سے دیتے ہیں خواجہ دیکھ لیا جو لے کے تمنّا آتا ہے، وہ لے کے مُرادیں جاتا ہے اندازِ طلب بھی دیکھ لیا، اندازِ عطا بھی دیکھ لیا رحمت کے خزانے بھی بے حد، خواجہ کی سخاوت بھی بے حد دیتے تو نہیں دیکھا ہے مگر، دامن جو بھرا تھا دیکھ لیا دربار معینی سے بے شک، محروم رہا جو مُنکر تھا کتنے ہی تمنّا والوں کو واصل بہ تمنّا دیکھ لیا مسکین و تونگر سب یکساں، جذبات سے کھنچتے آتے ہیں اِک قبر میں سونے والے کا، انسانوں پہ قبضہ دیکھ لیا عشّاق کا مجمع روضہ پر، پروانوں سا اُمڈا آتا ہے کیا شمع جمالِ انور میں سرکار کا روضہ دیکھ لیا جس نور کا جلوہ کعبہ اور طیبہ کو منوّر کرتا ہے بغداد میں اور اجمیر میں بھی اُس نور کا جلوہ دیکھ لیا جتنے بھی ول۔۔۔

مزید