جمعہ , 05 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 16 October,2026

علی بن مشہر

          علی بن مشہر قرشی کوفی[1]: امام ابو حنیفہ کے ان اصحاب میں سے تھے جنہوں نے فقہ وحدیث کو جمع کیا۔ابو الحسن کنیت تھی۔اپنے زمانہ کے عالم عامل صاحب روایت و درایت اور ثقہ تھے۔حدیث کو اعمش اور ہشام بن عروہ سے سنا اور آپ سے سفیان ثوری نے امام ابو حنفہ کا علم اور ان کی کتب کو اخذ و نقل کیا  ،مدت تک آپ موصل کے قاضی رہے اور ۱۸۹ھ؁ میں وفات پائی ۔ اصحاب صحاح ستہ نے آپ سے تخریج کی۔’’عالم بے بدل‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔   1۔علی بن ’’سہر جوالہر الفیہ ‘‘ (مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

امام محمد  

          امام بن حسن بن فرقد الشیبانی : امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے آپ فقہ  و حدیث و لغت کے امام اور فصیح بلیغ و ادیب بے نظیر تھے ، باپ آپ کا قبیلۂ شیبان سے شہر حرستا کا رہنے والا تھا جو د مشق میں وسط غوطہ کے اندر واقع ہے اور عراق میں آکر واسطہ میں اقامت گزیں ہوا تھا جہاں آپ ۱۳۲ھ؁ یا ۱۳۵ھ؁ میں پیدا ہوئے اور کوفہ میں نشو و نماپایا اور امام ابو حنیفہ وامام ابو یوسف و مسعر بن کدام و سفیان ثوری و امام مالک و مالک بن دینار و امام اوزاعی وربیعہ اور مالک بن مغول وغیرہ سے سنا اور آپسے امام شافعی او ابو عبید القاسم بن سلام وبو حفص کبیر احمد بن حفص وابو سلیمان جو رجانی و موسیٰ بن نصیر رازی و اسمٰعیل بن نولہ وعلی بن مسلم و محمد بن سماعہ ومعلی بن منصور و ابراہیم بن رستم و ہشام بن عبید اللہ وعیسٰی بن ابان و محمد بن مقاتل اور شداد بن حکیم وغیرہ نے روای۔۔۔

مزید

اسد بن عمرو

          اسد بن عمرو بن عامر بن اسلم بن مغیث البجلی الکوافی : امام اعظم کے ان چالیس اصحاب میں سے تھے جو کتب اور قواعد فقہ کی تدوین میں مشغول اور عشرہ متقع مین مثل امام ابو یوسف و محمد وزفر داؤد طائی وغیرہ میںشمار کئے جاتے تھے ۔ آپ نے تیس سال تک امام ابو حنیفہ کے لئے کتابت کی اور انہوں ہی سے حدیث کو سنا اور فقہ کو اخذ کیا ۔ جب امام ابو یوسف فوت ہوئے تو رشید نے بغداد اور وسط کی قضا آپ کے سپرد کی اور اپنی بیٹی کا آپ کے ساتھ نکاح کردیا ،کچھ مدت بعد آپ نے مع عورت خود حج کیا اور جب آپ آنکھوں سے معذور ہو گئے تو قضا کو چھوڑ دیا ۔آپ سے امام احمد بن حنبل اور محمد بن بکار اور احمد بن منبع نے حدیث کو روایت کیا اور آپ کو صدوق بتلایا یحییٰ بن مدین نے بھی آپ کی توثیق کی ،پس اس صورت میں بقول کفوی جو شخص آپ کے ضعیف تصور کرے ، اس کا منہ بند کرنے کے لئے امام احمد۔۔۔

مزید

ابو سعید امام یحی بن ذکریا بن ابی زائدہ

ابو سعید امام یحی بن ذکریا بن ابی زائدہنام :                  یحی کنیت :                ابو سعید والد کا نام:                      زکریا  اپنے دادا ابو زائدہ کی نسبت سے مشہور ہیں۔ولادت :            آپ کی ولادت  محمد بن مبشر سے ولاء کا تعلق  رکھتے تھے کوفہ میں 120 ھ ہوئی ۔سلسلۂ نسب:            یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ میمون  بن فیروز ہمدانی الکوفی         &۔۔۔

مزید

نوح

              نوح بن دراج نخعی کوفی : کنیت ابو محمد تھی ، فقہ میں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے اور امام زفرو ابن شبر مہ اور ابن ابی لیلیٰ سے بھی فقہ کو اخذ کیا ۔ حدیث کی روایت امام زفر و امام اعمش اور سعید بن منصر سے کرتے تھے اگر چہ حدی ث میں آپ کو ابن معین نے مکذب بیان کیا ہے مگر تاہم ابن ماجہ نے تفسیر میں آپ سے تخریج کی ہے۔ ابتداء میں آپ کوفہ کے قاضی تھے پھر بغداد کے قاضی ہوئے اور ۱۸۲ھ؁ میں وفات پائی۔ فقہ کو اخذ کیا ۔ حدیث کی روایت امام زفر و امام اعمش اور سعید بن منصر سے کرتے تھے اگر چہ حدی ث میں آپ کو ابن معین نے مکذب بیان کیا ہے مگر تاہم ابن ماجہ نے تفسیر میں آپ سے تخریج کی ہے۔ ابتداء میں آپ کوفہ کے قاضی تھے پھر بغداد کے قاضی ہوئے اور ۱۸۲ھ؁ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عبداللہ بن مبارک، ابو عبدالرحمن امام

ابو عبدالرحمن امام عبدالله ابن مبارك نام :                   عبداللہ کنیت :                 ابو عبد الرحمٰن ولادتآپ کی ولادت  شہر مرو ۱۱۸ھ؁ میں ہوئی۔سلسلہ نسب عبد بن مبارک بن واضح تیمی  المروزی:آپ کے والد  بنو حنظلہ کے ایک شخص کے غلام تھے ، اس لئے آپ حنظلی کہلائے،  اور والدہ آپ کی خوا زمی تھی ۔ آپ ابتداء یں شراب خوری اور ا کے لوزمات لہو لعب میں بڑے مصروف رہتے تھے ۔آپ کی توبہ کا یہ سبب ہوا کہ آ پ نے موسم بہار میں ایک دن مع اپنے یاروں و دوستوں کےایک باغ میں بڑا جلسہ کیا جس میں دن بھر آپ سروع غناء میں مشغول رہے اور رات کو شراب کےنشہ میں مخمور ہو کر بیہوش ہو گئے۔صبح کو آپ نے خواب میں کیا دیکھا ۔۔۔

مزید

قاضی عبد الکریم  

            عبد الکریم بن محمد جرجانی : فقیہ جید محدث مقبول تھے ، مدت تک قضا کا کام انجام دیا ار روایت امام ابو حنیفہ سے کی اور حدود ۱۸۰ھ؁ میں وفات پائی۔ ترمذی نے آپ سے تخریج کی ۔’’کوکب اسلام ‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

نوح بن ابی مریم

    نوح بن ابی مریم ابو عصمہ مرزوی الشہیر با لجامع:فقہ امام ابو حنیفہ اور ابن ابی لیلیٰ سے اخذ کی اور حدیث کو حجاج بن ارطاۃ اور نیز زہری و مقاتل سے سنا اورتفسیر کو کلبی وغیرہ اور مغازی کو محمد بن اسحٰق سے اخذ کیا ۔ جامع آپ کو اس لئے کہتے تھے کہ آپ جامع علوم تھے اور آپ کی چار مجلسیں ہو اکرتی تھیں ،ایک حدیث و آثار،دوم اقاویل امام ابو حنیفہ،سوم نحو ، چہارم اشعار وادب ،بعض کہتے ہیں کہ جامع آپ کو اس لئے کہتے تھے کہ آپ نے سب سے پہلے امام ابو حنفیہ کی فقہ کو جمع کرنا شرو ع کیا ۔اگرچہ آپ کو وضاع کہا گیا ہے اور بہت سی احادیث فضائل قرآن میں آپ نے وضع کیں ،یہاں تک کہ آپ کو وضاع کہا گیا ہے اور بہت سی احادیث فضائل قرآن میں آپ نے وضع کیں ،اور جب آپ سے اس کا باعث پوچھا گیا تو آپ نے بیان کیا کہ میں نے اس لئے فضائل قرآن میں حدیثیں وضع کی ہیں کہ بہت لوگ قرآن کو چھوڑ کر امام ابو حنیفہ کی فقہ اور اب۔۔۔

مزید

زہیر بن معاویہ

              زہیر بن[1] معاویہ خدیج کوفی : ۱۰۰ھ؁ میں پیدا ہوئے ، امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے محدث ، ثقہ فقیہ فاضل تھے اور کنیت ابو خیثمہ رکھتے تھے ۔ حدیث کو امام اعمش اور ان کے طبقہ سے سنا اور آپ سے یحٰی بن قطا ن نے روایت کی ۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں آپ جیسا کوفہ میں اور کوئی نہ تھا ۔ یحٰی بن معین وغیرہ محدثین نے آپ کی توثیق کی اور ۱۷۳ھ؁ یا ۱۷۴ھ؁ میں آ پ فوت ہوئے ۔ اصحاب صحاح ستہ نےآپ سے تخریج کی ۔’’زیب مسند‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے ۔   1۔ حدیح ’’ جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عمر و بن میمون

    عمر و بن میمون بن بحر بن سعد رباح بلخی : ابو علی کنیت تھی ۔محدث تھی ۔محدث ،ثقہ،فقیہ عالم،صاحب علم و افہم اور اصلاح تھے۔ بغداد میں آکر امام ابو حنیفہ کی صحبت میں داخل ہو کر ان سے فقہ اخذ کی ۔ مدت تک قاضی رہے اور قضا کی حالت میں آپ کا رویہ قابل تحسین رہا ۔اخیر عمر میں نابینا ہو کر ۱۷۱ھ؁ میں وفا ت پائی ۔ ترمذی نے آپ سے تخریج کی ۔ ’’کوہ علم ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید