` سفیان بن عینیہ بن ابی عمران میمون الہلا لی الکوفی : محدث ،ثقہ،حافظ،فقیہ،امام حجت اور آٹھویں طبقہ کے روس میں سے تھے۔ ابو محمد کنیت تھی،کوفہ میں ۱۵ ؍شعبان ۱۰۷ ھ میں پیدا ہوئے اور آپ کا باپ آپ کو مکہ معظمہ میں لے گیا۔ابھی بیس سال کی عمر کو نہ پہنچے تھے کے پھر کوفہ میں آئے اور امام ابو حنیفہ کے پاس تحصیل علم حدیث کے لئے بیٹھے اور ان سے روایت کی ،آپ کا قول ہے کہ پہلے امام ابو حنیفہ ہی نے مجھ کو محدث بنایا ہے،پھر عمرو بن اور ضمرہ بن سعید کی مصاحبت کی اور ان سے اور زہری وابی اسحٰق سبیعی و محمد بن المنکدرو وابی زیادہ عاصم بن ابی النجو المقری و اعمش اور عبد الملک بن عمیر وغیر ہم سے حدیث کو سُنا اور آپ کے چچا مصعب اور عبد الرزاق بن ہمام صنعانی ویحییٰ بن اکثم نے روایت کی اور نیز صحاب صحاح ستہ نے آپ سے بکثرت تخریج کی ۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر آپ ا۔۔۔
مزید
امام یحییٰ بن سعید قطان نام : یحییٰ لقب: تمیمی ، ولادت: آپ کی ولادت ١٢٠ ھ بصرہ میں ہوئی ۔ حافظ الحدیث امام جرح وتعدیل یحییٰ بن سعید قطان کا نسبی تعلق احرارِ عرب سے تھا۔ آپ کے دادا فروخ بنو تمیم کے آزاد کردہ غلام تھے اسی نسبت سے تمیمی کہلائے جاتے ہیں۔ یحییٰ بن سعیدقطان نے جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی وہ قال اللہ وقال الرسول کے غلغلوں سے معمور تھا۔ قدرت نے انہیں حفظ وضبط کی بے مثال قوت سے نوازا تھا۔ وہ بے شمار احادیث کے حافظ تھے۔ کتاب سامنے رکھ کر حدیث بیان نہ کرتے تھے۔ بڑے بڑے ائمہ حدیث آ۔۔۔
مزید
شعیب بن اسحاق بن عبد الرحمٰن قرشی الد مشقی : امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے محدث ثقہ فقیہ جید مہتم با لا جاء تھے ۔ ابن عروبہ سے آپ نےاخیر عمر میں حدیث کو سماعت کیا اور آپ سے لیث نے روایت کی۔آپ امام اوزاعی و امام شافعی اور ولیدبن مسلم کے طبقے میں سے تھے، شیخین اور ابو داؤد دو نسائی اور ابن ماجہ نے آپ سےحدیث کی تخریج کی اور ۱۹۸ھ اور بقول بعض ۱۸۹ھ میں آپ فوت ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
امام وکیع بن جراح رواسی کوفینام: وکیعکنیت : ابو سفیانلقب: رواسی کوفی ولادت : ولادت ۱١٩ھ یا ۱۲۹ھ میں ہوئی۔نسب: وکیع بن جراح بن ملیح بن عدی بن ۔۔۔
مزید
امام ابو عمر حفص بن غیاثنام : حفصکنیت ، ابو عمر ولادت : آپ کی ولادت ۱۱۷ھ میں بمقام کوفہ ہوئی۔نسب : حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ بن مالک بن حارث بن ثعلبہ نخعی۔ آپ یمن کے قبیلہ نخع سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ایک شاخ کوفہ میں آباد ہو گئی تھی۔ تحصیلِ علم:حفص نے مرکزِ علم کوفہ میں آنکھ کھولی تھی جہاں کا ذرہ ذرہ علم کی تابانیوں سے جگمگا رہا تھا۔ آپ نے فطری استعداد کے ساتھ تحصیلِ علم کے کوچے میں قدم رکھا اور مشاہیرِ علم کی بارگاہوں سے علم وفن کی تحصیل کی۔ شیوخ و اساتذہ یہ ہیں:طلق، اسماعیل بن ابی خالد، اشعث، ابو مالک اشجعی، سلیمان تمیمی، عاصم الاحول، عبیداللہ بن عمر، مصعب بن عمیر، یحییٰ بن سعید انصا۔۔۔
مزید
شقیق بن ابراہیم بلخی: امام ابو یوسف کے اصحاب میں سے عالم ، زاہد ، عارف، متوکل تھے اور ان سے کتاب الصلوٰۃ پڑھی اور امام ابو حنیفہ و اسرائیل اور عباد بن کثیر سے بھی روایت کی ، کنیت ابو علی رکھتے تھے۔ مدت تک ابراہیم بن اوہم کی صحبت میں رہےاور ان سے طریقت کا علم حاصل کیا،آپ کا قول تھا کہ میں نے ایک ہزار سات سوا ستاد کی شاگردی کی اور چند اونٹ کتوبوں کے پڑھے لیکن خدا کی رضا مندی چار چیزوں میں پائی،ایکؔ امن روزی میں ، دومؔ کام میں اخلاص ،سومؔ شیطان سے عداوت ، چہارمؔ موت سے موافقت۔ کہتے ہیں کہ جب آپ نے توکل کے میدان میں قدم رکھا تو آپ کے پاس تین سو گاؤں جائیداد میں تھے،سب کو آپ نےفقراء پر ایثار کردیا یہاں تک کہ مرنے کے وقت کفن کےلئے بھی آپ کے پاس کچھ نہ تھا ۔ حاتم اصم اور محمد بن ابان بلخی اور ابن مردویہ نے آپ سے روایت کی اور ۱۹۴ھ میں آپ ولای۔۔۔
مزید
علی بن ظبیان بن ہلال عیسی کوفی : فقیہ ،محدث ، عالم عارف ،ورع تھے،کنیت ابو الحسن تھی ۔ ابتداء میں آپ شرقی بغداد کے قاضی مقرر ہوئے ، جب ہارون رشید کی خلافت کا دور دورہ ہوا تو آپ قاضی القضاۃ بنے ، آپ ہمیشہ بوریئے پر بیٹھاکرتے تھے ،لوگوں نے آپ سے کہا کہ آپ کیوں بور یئے پر بیٹھا کرتے ہیں حالانکہ آپ سے پہلے جو قاضی تھے وہ مسند پر بیٹھا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ کو شرم آتی ہےکہ دو مسلمان بھائی میرے آگے بوریئے پر بیٹھیں اور میں مسند پر اجلاس کروں ۔ وفات آپ کی ۱۹۳ھ میں ہوئی اور ابن ماجہ نےآپ سے تخریج کی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
یوسف بن امام ابو یوسف بن ابراہیم بن حبیب بن خنیس بن سعد بن عتبہ انصاری :بڑے فقیہ ومحدث تھے۔فقہ و حدیث کواپنے والد امجد اور نیز یونس بن ابی اسحٰق سبیعی اور سری بن یحییٰ وغیر ہم سے اخذ کیا اور سنااور اپنے والد کی ہی حیات میں غربی جانب بغداد کے قاضی مقرر ہوئے اور ہارون رشید کے حکم سے مدینہ منورہ میں جمہ کی نماز پڑھائی اور تاوفات قاضی رہے اور بغداد میں ماہ رجب ۱۹۳ھ میں وفات پائی۔’’صاحب کمال‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبد اللہ بن ادریس بن یزید بن عبد الرحمن اودی کوفی: فقیہ عابد ، محدث ثقہ تھے ۔کنیت ابو محمد تھی ۔ ہر ایک چیز میں امام ابو حنیفہ سے روایت کی اور نیز اپنے باپ وابن سعید و اعمش و ابن جریح و ثوری اور شعبہ سے سنا اور آپ سے امام مالک و ابن مبارک و امام احمد نے روایت کی ۔ کہتے ہیں کہ جب آپ مرنے لگے تو آپ کی لڑکی نے رونا شروع کیا، آپ نے فرمایا کہ مت رو کیونکہ میں نے اس مکان میں چار ہزار بار قرآن کا ختم کیا ہے۔ آپ نے کچھ اوپر ستر سال کی عمر میں ۱۹۲ھ میں وفات پائی ۔آپ سے اصحاب صحاح ستہ نےتخریج کی۔’’عزیز زماں ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
یوسف بن خالدین [1]عمیر سمنی بصری مولیٰ بنی لیث :امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے عالم فاضل ، فقیہ کامل، رائے وفتویٰ میں بصیرت تمام رکھتے تھے۔ ابو کالد کنیت تھی ۔مدت تک امام ابو حنیفہ کی صحبت میں بیٹھے اور ان سے بہت کچھ اخذ کیا ۔اوائل میں عثمان فقیہ بصرہ شاگرد تھے جو بعد تعلیم فقہ وحدیث کے امام ابو حنیفہ کی خدمت سے مشرف ہوئے اور چالیس ہزار مسائل مشکلہ جو آپ کے خیال میں متمکن تھے،امام سے حل کئے ، بسب نیک روش اور ہیئت کے ستمی کی نسبت سے مشہور ہوئے، اگر چہ صاحب تقریب کے نزدیک آپ متروک ہیں لیکن تاہم ابن ماجہ نے اپنی سنن میں آپ سے تخریج کی اور ہلال بن یحییٰ اور اس کے باپ خالد نے آپ سے روایت کی ۔طحاوی نے کہا ہے کہ میں نے مزنی سے سنا کہ یوسف بن خالد اہل خیار میں سےہیں۔وفت آپ کی ماہ رجب ۱۸۹ھ میں ہوئی ۔’’ کوکب عالم‘‘ آپ کی تاریخ وفا۔۔۔
مزید